خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 403
403 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2012ء خطبات مسرور جلد دہم سے ہم پر کھول دیا ہے کہ قرآن شریف ایک زندہ اور روشن کتاب ہے۔فرمایا میں بار بار اس امر کی طرف اُن لوگوں کو جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلے کو کشف حقائق کے لئے قائم کیا ہے کیونکہ بڑوں اس کے عملی زندگی میں کوئی روشنی اور نور پیدا نہیں ہوسکتا۔حقائق اُسی وقت کھلتے ہیں جب قرآن کریم کا علم ہو۔اس کے بغیر زندگی میں کوئی روشنی اور نور پیدا نہیں ہوسکتا، دینی علم حاصل نہیں ہوسکتا۔فرمایا اور میں چاہتا ہوں کہ عملی سچائی کے ذریعے اسلام کی خوبی دنیا پر ظاہر ہوجیسا کہ خدا نے مجھے اس کام کے لئے مامور کیا ہے۔اس لئے قرآنِ شریف کو کثرت سے پڑھو مگر نرا قصہ سمجھ کر نہیں بلکہ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 113 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) ایک فلسفہ سمجھ کر۔“ پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی ماموریت کے اس اہم کام کے ساتھ اپنے ماننے والوں کو بھی اس طرف توجہ دلائی ہے تو اس کے لئے ہمارا بھی کام ہے کہ ہم بھی قرآنِ کریم کو سمجھیں، پڑھیں اور اس کے حسن و خوبی کو ان لوگوں پر ظاہر کریں، ان تک پہنچائیں۔اس وقت تبلیغ کا سب سے بڑا ہتھیار ہمارے پاس قرآن کریم ہے۔اور نہ نو جوانوں کو اور نہ کسی اور کو کسی بھی قسم کے احساس کمتری میں، complex میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے کہ شاید مسلمانوں کے خلاف یا قرآن کریم کے خلاف باتیں ہوتی ہیں تو ہم یہ ہتھیار کس طرح استعمال کریں۔یہی ہتھیار ہے جو تمام دینوں پر غالب آنے کا ہتھیار ہے۔پس اس کو ہمیں سیکھنا چاہئے اور آگے پہنچانا چاہئے۔اس کو پڑھنا اور سمجھنا اور اس کے ذریعے سے معترضین کے منہ بند کروانا آج ہماری ذمہ داری ہے۔یہاں آئے دن جو قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق غلیظ اعتراضات کئے جاتے ہیں، انہیں دور کرنا آج ہماری ذمہ داری ہے۔اور یہ صرف چند لوگوں کا ہی کام نہیں ہے کہ خدام الاحمدیہ کے ذریعے سے یا کچھ اور چند لوگوں کے ذریعے سے مجلس انصار سلطان القلم قائم ہو گئی تو ہم کافی سمجھ لیں۔بلکہ ہر احمدی، بچے بڑے، مرد، عورت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ ہم میں سے ہر ایک اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے والوں میں شامل ہو سکے۔آپ فرماتے ہیں۔اس سلسلے میں داخل ہو کر تمہارا وجود الگ ہو اور تم بالکل ایک نئی زندگی بسر کرنے والے انسان بن جاؤ۔جو کچھ تم پہلے تھے وہ نہ رہو۔یہ مت سمجھو کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں تبدیلی کرنے سے محتاج ہو جاؤ گے یا تمہارے بہت سے دشمن پیدا ہو جائیں گے۔نہیں۔خدا کا دامن پکڑنے والا ہرگز محتاج نہیں ہوتا۔اُس پر کبھی برے دن نہیں آسکتے۔خدا جس کا دوست اور مددگار ہو، اگر تمام دنیا اُس کی دشمن ہو جاوے تو کچھ پرواہ نہیں۔مومن اگر مشکلات میں بھی پڑے تو وہ ہرگز تکلیف میں نہیں ہوتا“۔یعنی