خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 402
خطبات مسرور جلد دہم 402 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2012ء فضل و کرم سے توفیق چاہو کہ وہ تمہیں سیراب کرے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے بڑوں کچھ بھی نہیں ہوسکتا“۔جب تک خدا تعالیٰ نہیں چاہے گا کچھ نہیں ہو سکتا۔تم پانی نہیں پی سکتے ، احمدیت میں داخل ہو کر اُس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔فرمایا یہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ جو اس چشمہ سے پئے گا وہ ہلاک نہ ہوگا کیونکہ یہ پانی زندگی بخشتا ہے اور ہلاکت سے بچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے۔اس چشمہ سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو دو حق تم پر قائم کئے ہیں اُن کو بحال کرو اور پورے طور پر ادا کرو۔ان میں سے ایک خدا کا حق ہے دوسر امخلوق کا۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 135 ایڈیشن 2003 ، مطبوعہ ربوہ ) پس یہ وہ حالت ہے اور وہ مقام ہے جس کو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اندر پیدا کرنے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ بھی ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ حقوق کے معیاروں کے حصول کے لئے جلسہ کی صورت میں ایک تقریب پیدا کر دی جہاں ہم نیک باتیں سُن کر اور ایک دوسرے کے نیک اثرات کو جذب کر کے اُن معیاروں کو حاصل کرنے کی طرف توجہ کرتے ہیں جو آپ ہم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔پھر ایک بہت ہی اہم بات کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے اور ہر احمدی کو اس طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے اور وہ ہے اپنی علمی حالت کو بہتر کرنا۔آج کل کے معاشرے میں دنیاوی علم کی طرف بہت توجہ ہے اور دین سیکھنے کی طرف کم۔آپ فرماتے ہیں کہ سچی تبدیلی تقویٰ اور طہارت پیدا کرنے کے لئے اپنے دینی علم کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحه 141-142 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) اور یہ دینی علم آج ہمیں صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہی مل سکتا ہے۔آپ نے اپنی کتابوں کا بے شمار خزانہ ہمارے لئے چھوڑا ہے جو علم و عرفان کے موتیوں سے بھری پڑی ہیں۔پس انہیں پڑھنے کی طرف بھی بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جو جو کتب انگلش میں ترجمہ ہو چکی ہیں، انہیں اردو نہ جاننے والے انگلش میں پڑھنے کی کوشش کریں۔کچھ اقتباسات ہیں اُن کی طرف توجہ دیں۔وہ چار پانچ volumes کی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔جو اردو پڑھنا جانتے ہیں وہ اُردو میں پڑھیں کہ یہ باتیں ہیں جو ہمارے علم و عرفان کو بڑھانے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔کیونکہ جو کچھ آپ نے بیان فرمایا ہے ، وہ قرآنِ کریم کی تفسیر ہے۔اس زمانے میں سب سے زیادہ قرآنِ کریم کا ادراک خدا تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا۔قرآنِ کریم کے بکثرت پڑھنے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : ”خدا تعالیٰ نے اپنے فضل