خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 401 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 401

401 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جون 2012ء خطبات مسرور جلد دہم اپنا سارا وجود خدا تعالیٰ کے حضور رکھ دیتا ہے۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 133 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) اور جب اس حالت پر ایک مومن پہنچ جاتا ہے تو پھر قرآنِ کریم کی یہ آیت آپ نے پیش فرمائی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : بلى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: 113) کیوں نہیں ، جو بھی اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دے اور وہ احسان کرنے والا ہو تو اُس کا اجر اُس کے رب کے پاس ہے اور اُن لوگوں پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔پس اللہ تعالیٰ یہ وعدہ فرماتا ہے کہ جو بھی اپنی تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ پر رکھے، اللہ تعالیٰ کی رضا ہر دوسری چیز پر مقدم کر لے، اُن کے خوف اور غم کی حالت کو اللہ تعالیٰ دور فرما دیتا ہے۔احسان کا مطلب ہے کہ دوسروں سے نیک سلوک کرنا، ایسا سلوک جس میں کوئی ذاتی مفاد نہ ہو۔اور پھر یہ بھی مطلب ہے کہ اپنے علم اور عمل میں نیکی مد نظر ہو۔ایک انسان کا اپنا ہر عمل اور علم جو ہے اُس کا استعمال نیک باتوں کے لئے ہو اور کسی بھی صورت میں اُس میں بدی داخل نہ ہو اور یہی حالت حقیقت میں وہ حالت ہے جس کو کہہ سکتے ہیں کہ توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔پس یہ مقام ہے جو ہر احمدی کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ حالت ہی ہمیں حقیقی مسلمان بناتی ہے۔پس ہمیں اپنے آپ کو بیعت میں شامل کرنے کے بعد اسی پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے ، اسی پر اکتفا نہیں کر لینا چاہئے کہ ہم احمدی ہو گئے بلکہ اپنے معیار بڑھاتے چلے جانے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔بیعت کرنے والوں کی خوش قسمتی کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ: "میں سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک تقریب ہے جو اللہ تعالیٰ نے سعادتمندوں کے لئے پیدا کر دی ہے“۔یعنی وہ لوگ جو احمدیت میں داخل ہو گئے۔”مبارک وہی ہیں جو اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔تم لوگ جنہوں نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے اس بات پر ہرگز ہرگز مغرور نہ ہو جاؤ کہ جو کچھ تم نے پانا تھا پا چکے۔یہ سچ ہے کہ تم ان منکروں کی نسبت قریب تر بہ سعادت ہو“۔یعنی تم اُن انکار کرنے والوں کی نسبت سعادت کے قریب تر ہو۔” جنہوں نے اپنے شدید انکار اور توہین سے خدا کو ناراض کیا۔اور یہ بھی سچ ہے کہ تم نے حسنِ ظن سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کی۔لیکن سچی بات یہی ہے کہ تم اس چشمہ کے قریب آ پہنچے ہو جو اس وقت خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔ہاں پانی پینا ابھی باقی ہے۔پس خدا تعالیٰ کے