خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 400 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 400

خطبات مسرور جلد دہم 400 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جون 2012ء کے اندر ایک محبت اور پیار کا بھی خاص رنگ ہونا چاہئے۔یہ آپ نے اپنے ماننے والوں سے توقع کی۔اور جب یہ رنگ پیدا ہوگا تو پھر ہی ہم وہ جماعت بن سکتے ہیں جو آخرین کی جماعت ہے۔پھر اس محبت کو مزید وسعت دیتے ہوئے آپ نے حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی۔جس طرح آپ نے توجہ دلائی ہے اگر ہم میں سے ہر ایک اس طرح حقوق کی ادائیگی شروع کر دے تو ہم چند سالوں میں ایک انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ : ”بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دعانہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا۔“ (ملفوظات جلد 2 صفحہ 68 ایڈیشن 2003, مطبوعد ربوہ ) پس دیکھیں ہم میں سے کتنے ہیں جو اس سوچ کے ساتھ اپنی دعاؤں کو وسعت دیتے ہیں؟ جماعت میں جو بعض مسائل پیدا ہوتے ہیں اگر یہ سوچ ہوتو کبھی مسائل پیدا ہو ہی نہیں سکتے۔جب ایک مومن اپنے مخالف اور دشمن اور غیر مومن کے لئے دعائیں کر رہا ہوگا تو اپنوں کے لئے تو ان دعاؤں میں ایک مزید اضافہ ہوگا۔ایک شدت پیدا ہورہی ہوگی۔اور جب ایسی دعائیں ہوتی ہیں تو خدا تعالیٰ کے پیار کی نظر بھی ایسے پیار کرنے والوں اور دوسروں کے جذبات کا اور احساسات کا خیال رکھنے والوں پر پڑتی ہے اور جس پر خدا تعالیٰ کے پیار کی نظر پڑ جائے ، اُس کی دین و دنیا دونوں سنور جاتے ہیں۔آپ کی اس اہم نصیحت کو بھی ہمیشہ ہمیں سامنے رکھنا چاہئے۔آپ نے فرمایا ” تم پر یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے تمہیں یہ قوت عطا کی اور شناخت کی آنکھ دی۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا، آپ کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔فرمایا اگر وہ یہ فضل نہ کرتا تو جیسے اور لگ۔۔۔۔۔گالیاں دیتے ہیں تم بھی اُن میں ہی ہوتے“۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جس طرح لوگ گالیاں دیتے ہیں تم لوگ بھی اُن میں ہوتے اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تم پر نہ ہوتا۔فرمایا ”جس چیز نے تم کو کھینچا ہے وہ محض خدا کا فضل ہے فرمایا ” یہ خیال مت کرو کہ ہم مسلمان ہیں۔اسلام بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو اور شکر کرو۔پس نام کا مسلمان ہونا اور احمدی ہونا کوئی چیز نہیں ہے۔اصل چیز جو فضل اللہ تعالیٰ کا اسلام اور احمدیت کے قبول کرنے کی صورت میں ہوا ہے، اُس کی قدر کرنے کی ضرورت ہے۔اور قدر کس طرح ہو سکتی ہے؟ فرمایا کہ اس کے اندر فلاسفی ہے جو زبان سے کہہ دینے سے حاصل نہیں ہوتی۔اسلام اللہ تعالیٰ کے تمام تصرفات کے نیچے آجانے کا نام ہے۔یعنی اسلام نام ہے اللہ تعالیٰ کے جتنے بھی احکامات ہیں اُن کے نیچے آنے کا۔اور اس کا خلاصہ خدا کی سچی اور کامل اطاعت ہے۔مسلمان وہ ہے جو