خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 376

خطبات مسرور جلد دہم 376 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء گے۔اور اللہ کے فضل سے وہ بچائے گئے )۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 6 صفحہ نمبر 183-184 روایت حضرت عبدالستار صاحب) حضرت میر مهدی حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک روز کا ذکر ہے کہ میں صبح کی نماز پڑھ کر مسجد مبارک سے پیر سراج الحق صاحب کے ساتھ اُن کے مکان کے زینے پر کھڑا ہو گیا۔پیر صاحب کوئی لمبا قصہ کسی کا ذکر کر رہے تھے۔مجھے ایک غیبی تار کے ذریعے معلوم ہوا کہ میری جان خطرے میں ہے ( یعنی ایک احساس ہوا )۔میں ان ایام میں حضرت صاحب کے دروازے پر دربان تھا۔میں وہاں سے بھاگا۔میرے سے پیش پیش محمد اکبر خان سنوری کچھ سودا بازار سے لے کر ڈیوڑھی میں داخل ہوئے۔آگے سے حضرت اقدس او پر سے نیچے تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ میاں مہدی حسین ہے؟ اکبر خان نے کہا کہ نہیں، دکانوں پر کھڑا ہو گا۔میں نے معاً آواز دی کہ حضور میں حاضر ہوں۔اکبر خان صاحب نے کہا کہ اب کہیں سے آ گیا ہوگا۔اس پر حضور نے مجھے حکم دیا کہ یہ قرآن شریف لے جاؤ اور فلاں مضمون کی آیت دریافت کر کے اُس پر نشان کر کے لے آؤ۔کہتے ہیں اس وقت میں ایسی حالت میں غرق ہوا کہ میں چاہتا تھا کہ میں خود ہی وہ آیت نکال کر پیش کر دوں ، جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تلاش تھی۔لیکن یہ ممکن معلوم نہ ہوتا تھا۔میں نے جناب الہی میں دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے فوری دعا کس طرح قبول کی۔کہتے ہیں وہیں میں نے کھڑے کھڑے جناب الہی میں دعا کی کہ وہ آیت مجھے ہی بتلا دی جائے۔یہ دعا کر کے میں نے قرآن شریف کھولا تو میری پہلی نظر ہی اس آیت پر پڑی جو حضرت اقدس کو مطلوب تھی۔میں نے عرض کی کہ حضور! آیت یہ موجود ہے۔فرمایا ہاں حکیم فضل دین صاحب سے پوچھ کر آؤ۔یعنی حکیم فضل دین صاحب کے پاس بھیجا تھا کہ اُن سے نکلوا لاؤ۔تو میں نے عرض کی حضور! آیت یہ موجود ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ ہاں حکیم فضل دین صاحب سے پوچھ کے آؤ۔میں نے پھر عرض کیا کہ حضور! آیت تو یہ موجود ہے حکیم فضل دین صاحب سے کیا پوچھنا ہے۔حضور نے پھر میرے ہاتھ سے قرآن شریف لے کر اس آیت کو دیکھا اور فرمایا کہ ہاں یہی ہے۔پھر آپ او پر تشریف لے گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ نمبر 274-275 روایت حضرت میر مهدی حسین صاحب) حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی بیان کرتے ہیں کہ مجھے مسلسل اور منظم طور پر یاد نہیں، متفرق طور پر یہ بات یاد آئی ہے کہ گزشتہ مذکور مباحثے کے بعد ایک اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی طرف سے نکلا، یہ جلسہ مہوتسو کے متعلق تھا، اُس میں اسلامی اصول کی فلاسفی کے بارے میں حضرت صاحب کا یہ الہام درج تھا کہ میرا مضمون بالا رہا۔کہتے ہیں اس وقت کسی وجہ سے میں کچھ " "