خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 375
خطبات مسرور جلد دہم 375 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء مَحِلُّها وَ مَقَامُها ( یعنی عارضی رہائش کے مکانات بھی مٹ جائیں گے اور مستقل رہائش کے بھی۔یہ الہام تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا)۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد زلزلہ سے تین دن پہلے مجھے خواب آئی کہ حضور ہمارے گھر ہماری چار پائی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔اُس پر میں نے عرض کیا کہ ہمارے گاؤں والے مجھے سخت تکلیف دے رہے ہیں، آپ میرے لئے دعا فرمائیں۔اس پر حضور نے پنجابی میں ہی فرمایا۔”میں تے ایہوای کم کرناں ہونا۔( یعنی میں تو یہی کام کرتا ہوں۔یہ خواب میں ان کو بتایا گیا۔) اس پر دوبارہ میں نے عرض کی۔میرے واسطے علیحدہ دعا کی جائے تو حضور نے (خواب میں ) میرے بائیں بازو کو پکڑ کر ایک ہاتھ سے ہی دعا کرنی شروع کر دی۔میں نے دونوں ہاتھ سے دعا کرنی شروع کر دی۔دعا کر ہی رہے تھے کہ بہت سخت زلزلہ آ گیا۔میں گرنے کو ہوا ہی تھا کہ حضور کو میں نے زور سے پکڑ لیا، بغل گیر ہو گیا اور کہتے ہیں بھی پڑے پڑے ہی مجھے جاگ آگئی۔صبح سویرے میں قادیان آیا تو حضور نے بڑے باغ میں خیمہ لگایا ہوا تھا۔جب میں خیمہ کی طرف گیا تو حضور باہر ٹہل رہے تھے۔میں نے سلام و آداب کیا اور مصافحہ کیا۔میں نے عرض کی کہ حضور میں ایک خواب سنانا چاہتا ہوں۔اس پر حضور نے اجازت دی اور یہی خواب میں نے حضور کو سنائی کہ حضور نے یہ لفظ " تم بچائے جاؤ گے قریباً تین دفعہ دہرائے۔کہتے ہیں۔اُس کے بعد کیا ہوا کہ طاعون آ گیا۔میری بیوی اور لڑکی دونوں کو طاعون ہوگئی تو لوگوں نے کہا کہ یہاں دس دس بارہ بارہ آدمی روز مرتے ہیں، اگر تم مر گئے تو تمہاری قبر کون کھو دے گا؟ ( کیونکہ احمدیوں کے قریب کوئی نہیں آئے گا۔تمہاری میت کو کون اُٹھائے گا اور غسل دے گا ؟ اس پر میں نے جواب دیا کہ ہم کو خدا کو سونپہو۔میری بیوی قریب المرگ ہو گئی۔میں نے خدا کے حضور وضو کر کے یہی دعا کی کہ اے مولیٰ ! ہماری قبر بھی کوئی کھودنے والا نہیں ہے اور اُٹھانے والا اور غسل دینے والا بھی کوئی نہیں۔اُس وقت میرے پاس سنگترے تھے تو وہ میں چھیل کر اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا رہا۔جب اُس نے کھالئے تو میری بیوی کو دست آئے اور ساتھ ہی بخار بھی ٹوٹ گیا۔میری لڑکی کے پھوڑے پر آک کا دودھ ( آک ایک پودہ ہوتا ہے اُس کا دودھ ) لگا یا تو اُس کو بھی آرام آگیا۔اور پھر خدا کے آگے میں دعا کرنے لگا اور پنجابی میں ہی دعا کی کہ میں الْحَمدُ پڑھتا تھا تو یہ لفظ خود بخود میری زبان سے رواں تھے کہ قُل سِيرُوا فِي الْأَرْضِ كَيْفَ كَانَ حَافِظ عَلَيْهِ۔اس پر میری بیوی اور لڑکی بچ گئی۔اُس وقت مجھے حضور کی بات یاد آئی کہ ” تم بچائے جاؤ گئے“۔( تین دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ تم بچائے جاؤ گے۔تم بچائے جاؤ