خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 377
خطبات مسر در جلد دہم 377 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء بیمار تھا۔اور بیماری بھی ایسی تھی کہ بہت زیادہ کمزوری تھی۔دعویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بڑا بھاری تھا کہ ”میرا مضمون سب پر بالا رہے گا۔بجز تائید الہی یہ بات کون کہہ سکتا ہے۔کہتے ہیں کہ میں ایک اپنے اہلحدیث مولوی کو جو لاہور میں تھا ، افتان و خیزاں ( بڑی مشکل سے گرتے پڑتے ) اُس کو ساتھ لے کر جلسہ گاہ میں پہنچا۔مولوی ثناء اللہ اور مولوی محمد حسین بٹالوی وغیرہ کے لیکچر بھی سنے مگر سب پھیکے اور بے اثر لیکن جب حضرت مرزا صاحب کا مضمون شروع ہوا تو تل رکھنے کی جگہ نہ تھی اور سامعین پر ایسا سکوت تھا کہ ذرا بھنک نہیں آتی تھی۔یہاں تک کہ بعض اور لوگوں نے بھی اپنے اوقات حضرت مرزا صاحب کا مضمون سننے کے لئے وقف کر دیئے۔اور دو دن ایام مقررہ سے زائد کئے گئے۔جب یہ مضمون آخر میں پہنچا تو میں نے اُسی وقت اس جگہ ہاتھ اُٹھا کر جناب الہی میں دعا کی ( یہ دیکھیں اللہ تعالیٰ پھر سعید فطرت لوگوں کی رہنمائی کس طرح فرماتا ہے) کہ یا اللہ ! اگر یہ تیرا وہی بندہ ہے جس کی نسبت تیرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی ہے تو اُس کی برکت سے مجھے اس بیماری سے شفا بخش دے۔الغرض جلسہ ختم ہونے کے بعد جب میں جلسہ گاہ کے بڑے دروازے سے باہر نکلا تو اللہ کی قسم ! مجھے ایسا معلوم ہوا کہ مجھے کوئی بیماری نہ تھی۔اُس دن سے آج تک پھر اس بیماری نے عود نہیں کیا۔( دوبارہ نہیں آئی)۔اور چنانچہ یہ احمدی بھی ہوئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ نمبر 247-248 روایت حضرت میر مهدی حسین صاحب) حضرت اللہ بخش صاحب بیان کرتے ہیں کہ کرم دین کے مقدمے میں پہلے چند ولال آریہ منصف تھا۔کہتے ہیں میرا ایک آریہ دوست تھا، گردھاری لال، اکا ؤنٹنٹ تھا، اُس نے آکر مجھے یہ خبر دی کہ ہماری کمیٹی میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب کو سخت سزا دی جائے۔میں نے خبر سن کر حضرت صاحب کی خدمت میں بیان کی۔آپ نے فرمایا کہ دعا کرو۔( کہتے ہیں) خیر میں واپس آ گیا۔جب امرتسر گیا تو صبح کی نماز کا وقت تھا۔میں مسجد گیا اور مسجد کی ڈاٹ میں بیٹھا ہوا تھا اور غالباً درود شریف پڑھ رہا تھا کہ میرے دائیں کان میں جو قریباً بند ہے، ( ان کا دایاں کان بند تھا اور کہتے ہیں ) اُس وقت بھی بند تھا زور سے آواز آئی کہ چندو لال فیصلہ سنانے سے پہلے مرجائے گا۔پھر میں حضرت صاحب کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ حضرت ! یہ آواز مجھے اس کان میں بہت زور سے پڑی ہے کہ چندو لال فیصلہ سنانے سے پہلے مارا جائے گا۔آپ نے فرمایا کہ یہ مبشر خواب ہے اور دعا کرو۔۔۔۔اس کے بعد میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک مسلمان مجسٹریٹ ہے جس نے آتما رام کو سفید گلاس میں پانی پلایا ہے۔جو شکل مجھے آتمارام کی خواب