خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 308 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 308

خطبات مسر در جلد دہم 308 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012ء دوسری اہم شرط جو ہے وہ نماز کا قیام رکھی ہے۔لیکن دوسری جگہ نماز پڑھنے والوں کو بڑی سخت تنبیہ بھی کی، یہ اندار بھی کیا۔فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ ( الماعون : 5) کہ نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے، یعنی اُن نمازیوں کے لئے جو نماز کا حق ادا نہیں کرتے ، جو تقویٰ کے بغیر نمازیں پڑھنے والے لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے، جو خبیر ہے، جو علیم ہے اُسے ہر چھپی ہوئی بات کی بھی خبر ہے، اُسے ہر بات کا بھی علم ہے۔کیتیوں کو بھی جانتا ہے، نمازیں پڑھنے کی کیفیت کو بھی جانتا ہے۔وہ ایسی نماز یں الٹا دیتا ہے جو تقویٰ سے عاری ہوں۔پس ہم میں سے ہر ایک کو بڑے خوف سے اپنی نمازوں کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہئے ، کیونکہ نمازیں ہماری زندگی کا مقصد خدا تعالیٰ نے قرار دی ہیں اور جو مقصد ہو، اُس کے حصول کے لئے کوشش بھی بہت کرنی پڑتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات : 57) کہ اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز عبادت کا مغز ہے۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ دنیا دار دنیا کمانے کے لئے کتنے ہاتھ پیر مارتا ہے، کتنی محنت کرتا ہے، کتنی تکلیفیں برداشت کرتا ہے، اتنی فکر کرتا ہے کہ اپنی صحت برباد کر لیتا ہے۔بعض لوگوں کو دنیاوی مال کا ، جائیداد کا نقصان ہو جائے تو دل کے دورے پڑنے لگ جاتے ہیں۔بعض لوگ خاطر خواہ نتائج نہ دیکھ کر اس طرح ڈیپریشن میں چلے جاتے ہیں کہ اُن کو ساری عمر کا روگ لگ جاتا ہے۔صرف اس دنیا کی زندگی کے لئے یہ سب کچھ ہورہا ہوتا ہے۔جو اگر دیکھیں تو ایک انسان کی فعال زندگی، ایک ایکٹو (Active) زندگی کی جو زیادہ سے زیادہ عمر ہے ساٹھ ستر سال تک کی ہوتی ہے۔اس کے بعد کی زندگی عموما فعال نہیں ہوتی۔پھر عموما بچوں کے یا دوسروں کے رحم وکرم پر انسان پڑا ہوتا ہے۔یہاں بھی ان ملکوں میں دیکھیں تو بچے بھی نہیں سنبھالتے۔اکثر لوگ اولڈ پیپل ہاؤس ( Od People House) میں بھیج دیئے جاتے ہیں۔ہفتے کے بعد بچے مل آتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑا احسان کر لیا۔اُس وقت کوئی نہیں پوچھتا۔وہاں سب نرسوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔تو اس عمر کو پہنچ کر جن کو خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین ہوتا ہے انہیں پھر خدا تعالیٰ کی یاد بھی آجاتی ہے۔اُس وقت بعض کو اخروی زندگی کی فکر بھی پیدا ہو جاتی ہے۔انجام بخیر ہونے کے لئے دعائیں بھی کرتے ہیں اور کرواتے بھی ہیں لیکن حقیقی مومن وہ ہے جو اس عمر پر پہنچنے سے بہت پہلے اپنے انجام بخیر ہونے کی فکر کرے اور اپنی زندگی کے اصل اور بنیادی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرے۔اپنی عبادت کا حق ادا کرے۔دنیا کی دلچسپیاں ، دنیا کی رنگینیاں اُسے عبادت سے غافل کرنے والی نہ ہوں۔نمازوں سے