خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 309
خطبات مسر در جلد دہم 309 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012ء غافل کرنے والی نہ ہوں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احمدی گھرانوں پر احسان ہے کہ عموماً خاوند یا بیوی میں سے ایک اگر عبادت کا حق ادا کرنے والا نہیں تو دوسرا تو جہ دلانے کی کوشش کرتا ہے۔کئی لوگ ملاقاتوں میں بھی اور خطوط کے ذریعے بھی مجھے کہتے ہیں کہ ہمارے خاوند یا بیوی کے لئے دعا کریں، انہیں نمازوں کی طرف توجہ نہیں ہے۔یہ توجہ پیدا ہو جائے۔عموماً عورتیں زیادہ کہتی ہیں۔یہ بات اس لحاظ سے جہاں خوشگن بھی ہے کہ عورتوں کو نمازوں کی طرف توجہ زیادہ ہے اور امید کی جاتی ہے اُن کی اس توجہ کی وجہ سے بچوں کی توجہ بھی رہے گی اور صحیح تربیت کر سکیں گی۔وہاں یہ امر قابل فکر بھی ہے کہ مرد جو قوام بنایا گیا ہے، جو گھر کا نگران بنایا گیا ہے، وہ نمازوں میں سست ہے۔وہ گھر کا سربراہ جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر والوں کے لئے نمونہ بنے، بلکہ نمونہ بننا ضروری قرار دیا گیا ہے، وہ اگر اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا جو اُس کی زندگی کا مقصد ہے تو اولا د کیا نمونہ لے گی؟ اور عملاً یہ ہوتا بھی ہے کہ بڑے بچے ،لڑکے جب جوان ہوتے ہیں، جوانی میں قدم رکھتے ہیں تو باپ اگر نمازیں نہیں پڑھ رہا ہوتا تو ماں کے توجہ دلانے کے باوجود کہہ دیتے ہیں کہ ہم کیوں پڑھیں۔نماز جو عبادت کا مغز ہے، اُس کا حق ادا کرنے کا طریق تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ اگر مسجد یا نماز سینٹر گھر سے دور ہے تو گھروں میں نماز باجماعت ادا کی جائے تا کہ نمازوں کی برکات سے گھر بھر جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل گھروں پر نازل ہوں۔مردوں کو خاص طور پر قیام نماز کا حکم ہے اور قیام نماز کا مطلب ہی یہ ہے کہ سوائے اشد مجبوری کے نماز میں باجماعت ادا کی جائیں۔پس یہاں جلسہ کے دنوں میں جو تین دن ہیں جن میں ہماری روحانی، علمی، اخلاقی ترقی کے لئے پروگرام ترتیب دیئے گئے ہیں، اس میں اکثر لوگ تہجد کی طرف بھی توجہ کرتے ہیں اور فرض نمازیں بھی باجماعت ادا کرتے ہیں اس کو اپنی زندگیوں کا مستقل حصہ بنانے کا عہد کریں تبھی تقویٰ کے سب سے اہم پہلو پر چلنے والے کہلا سکیں گے اور تبھی جلسے کے انعقاد کے مقصد کو حاصل کرنے والے بن سکیں گے۔جلسہ کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ کی ترقی کی طرف توجہ اور اُس کے لئے کوشش کو ہی اہم قرار دیا ہے۔آپ جلسے کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور ان کے اندر ( یعنی شامل ہونے والوں کے اندر جو جلسے میں شامل ہورہے ہیں ) ” خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور