خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 307 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 307

خطبات مسرور جلد دہم 307 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012ء نمازیں بھی پانچ پوری نہیں پڑھتے۔اگر پڑھتے ہیں تو جلدی جلدی ٹکریں مار کر پڑھ لیتے ہیں لیکن دعا کے لئے بڑی درد ناک حالت بنا کر خط لکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ بھی دنیاوی چیزوں کے لئے۔بہر حال اس بارے میں آگے میں ذکر کروں گا کہ دعاؤں کی کیا اہمیت ہے؟ تو یہاں میں یہ بیان کر رہا تھا کہ انسان دنیاوی کاموں کے لئے تو بہت کچھ کرتا ہے۔یہ ایک احمدی کا دعویٰ بھی ہے کہ میں نے اس زمانے کے امام کو مانا ہے جنہوں نے مجھے پھر اسلام کی خوبصورت تعلیم سے روشناس کروایا ہے لیکن تقویٰ کا وہ معیار حاصل نہیں کرتا یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا جو ایک احمدی مسلمان کا ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرنے کے بعد تمہاری دنیاوی ترقیات کے بارے میں پوچھا جائے گا، بلکہ فرمایا کہ تقویٰ اختیار کرو اور یہ دیکھو کہ تم نے کل کے لئے ، اُس کل کے لئے ، اُس آئندہ کی زندگی کے لئے جو تمہارے مرنے کے بعد شروع ہونی ہے، جو ہمیشہ کی زندگی ہے، اُس کے لئے تم نے کیا آگے بھیجا ہے؟ اس دنیا کی کمائی ، اس دنیا کے بینک بیلنس ، اس دنیا کی جائیداد، اولاد اور عزیز رشتے دار سب یہیں رہ جانے ہیں۔ان کے بارے میں خدا تعالیٰ کچھ نہیں پوچھے گا۔اللہ تعالیٰ پوچھے گا تو یہ کہ جن نیک اعمال کرنے کی میں نے تلقین کی تھی وہ تم نے کتنے کئے ہیں ؟ اور جو بھی نیک عمل ہم نے خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کئے ہوں گے، جو کام بھی تقویٰ پر چلتے ہوئے ہم نے کیا ہوگا، جس حد تک بھی حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی ہم نے کوشش کی ہوگی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور موجود ہوں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھ تک تمہارے یہ اموال نہیں پہنچیں گے بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے۔اس لئے ہمیشہ اس بات کو سامنے رکھو کہ جو عمل بھی تم کر رہے ہو، چاہے وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی سوچ کے ساتھ ہو یا اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے کی سوچ کے ساتھ ہو۔جو عمل خالص تقویٰ پر چلتے ہوئے ہو گا، وہی عمل ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دیکھو کہ تم نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے۔وہی عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ رکھتا ہے۔جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ کا تقویٰ مدنظر رکھتے ہوئے ایک بندہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حضور اس کا بدلہ پاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔اللہ تعالیٰ ہمارے ہر عمل کی نیت اور ہر عمل سے باخبر ہے اور وہ جانتا ہے کہ ہمارے عمل کیا ہیں؟ اور اُن اعمال کرنے کی ہماری نیت کیا ہے؟ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔پس ہمارا وہی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہے جس کے کرنے کی نیت نیک ہو اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ دل میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہو۔حقوق اللہ کی ادائیگی میں سب سے اہم چیز نماز ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پر ایمان لانے کے بعد