خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 306 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 306

خطبات مسر در جلد دہم 306 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012ء ذریعہ ہونا چاہئے۔اس جلسہ میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی سوچ کو مزید صیقل کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت اس صورت میں سب محبتوں پر غالب آسکتی ہے جب ہمیں یہ پتہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ رسول ہم سے کیا چاہتا ہے؟ اور اس کا صرف یہی مطلب نہیں کہ ہمیں پتہ ہو، ہمارے علم میں ہو کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسول ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ بلکہ ان باتوں کو علم میں لا کر اُس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے اور پھر اس کے حصول کے لئے بھر پور کوشش ہونی چاہئے ،مستقل کوشش ہونی چاہئے۔اور جب ان باتوں پر عمل ہوگا تو تبھی وہ حالت پیدا ہو گی جب انسان کو سفر آخرت مکر وہ معلوم نہ ہو۔ایک نہ ایک دن ہر انسان نے اس دنیا سے جانا ہے۔خوش قسمت ہوں گے ہم میں سے وہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کی محبت کے ساتھ اس دنیا سے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔پس اس بات کو ہم میں سے ہر ایک کو سامنے رکھنا چاہئے کہ انسان میں نیکیوں پر چلنے اور برائیوں سے رکنے کا خیال اُس وقت ہی شدت سے پیدا ہوتا ہے جب اُسے یہ یقین ہو کہ میں نے ایک نہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں میں اپنے اعمال کے بارے میں پوچھا جاؤں گا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تَقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوَاللَّهَ إِنَّ الله خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر: 19) کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اور چاہئے کہ ہر جان اس بات پر نظر رکھے کہ اُس نے کل کے لئے آگے کیا بھیجا ہے؟ اور تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے خوب باخبر ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ تمہارا ایمان تب کامل ہو گا جب تم خالص اللہ تعالیٰ کے ہو جاؤ گے اور اُس کا تقویٰ اختیار کرو گے۔اور یہ تقویٰ اُس وقت ایک حقیقی مومن کہلانے والے کو حاصل ہوتا ہے جب وہ یہ دیکھے کہ اُس نے اگلے جہان کے لئے کیا بھیجا ہے۔اُس حقیقی اور دائمی زندگی کے لئے کیا کوشش کی ہے؟ اس دنیا کے لئے تو انسان کوشش کرتا ہے۔بڑے تر ڈد سے ملازمتوں کی تلاش کرتا ہے۔کاروبار کے لئے محنت کرتا ہے۔جائیدادیں بنانے کے لئے محنت اور کوشش کرتا ہے۔اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم کے لئے فکر مندی کے ساتھ کوشش کرتا ہے اور بہت سے دنیاوی دھندوں کے لئے کوششیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ان دنیاوی کاموں کے لئے ایک شخص جس کو خدا تعالیٰ پر یقین ہو اس کوشش کے ساتھ کچھ حد تک دعا بھی کرتا ہے یا دوسروں سے دعا کرواتا ہے۔مجھے روزانہ بیشمار خطوط ان دنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے دعا کے آتے ہیں۔بعض ایسے بھی ہیں جو خود تو صرف دنیا داری کے کاموں میں پڑے رہتے ہیں۔