خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 301
خطبات مسر در جلد دہم 301 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012 ء تھیں۔( یعنی جماعت کے افراد کی نظریں اُنہی پر پڑتی تھیں) واقعی اُس وقت سوائے اُن لوگوں کے کوئی دوسرا قابل نظر ہی نہیں آتا تھا اور یہی لوگ منتظم تھے۔شروع جلسے پر پہلے تلاوت قرآن ہوئی۔پھر ایک نظم برادرم منشی سراج الدین صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں پڑھی۔پھر ایک نظم ایک شخص نے پڑھی۔اُس کے بعد حضرت مرزا محمود احمد صاحب نے تقریر کی۔خلیفہ اول کے زمانے کی بات ہے۔خلیفہ اسیح الثانی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد پہلے جلسے میں تقریر کی ) اُس میں آپ نے بیان فرمایا کہ فرعون کے ظلم وستم کی وجہ سے جو بنی اسرائیل کے آنسو نکلے تھے ایک دن وہ آنسو دریا بن کر فرعون کو لے ڈوبے۔( پس اضطراری حالت میں اور تکلیف کی حالت میں جو آنسو نکلتے ہیں، وہ پھر بڑے نتائج بھی نکالنے والے ہوتے ہیں۔جماعت کو بھی خاص طور پر پاکستان کی جماعتوں کو یہ یادرکھنا چاہئے کہ آجکل ایسے ہی آنسو نکالنے کا وقت ہے) کہتے ہیں جو بنی اسرائیل کے آنسو نکلے تھے ایک دن وہ آنسو در یا بن کر فرعون کو لے ڈوبے۔حضور عالی نے یہ تقریر ایسی عمدگی ہے ادا کی کہ سامعین پر وجدانی کیفیت طاری تھی۔جب آپ کی یہ تقریر ختم ہوئی تو حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تقریر شروع کرنے سے قبل فرمایا کہ میاں محمود احمد صاحب نے تو ایسی تقریر کی کہ میرے ذہن میں بھی کبھی یہ مضمون نہیں آیا۔پھر فرمایا دوستوں کو چاہئے کہ قدرت ثانی کے لئے دعا فرمائیں یعنی ہمیشہ یہ قدرت ثانی جاری رہے۔چنانچہ اُسی وقت دعا کی گئی اور آپ نے اُس وقت یہ بھی فرمایا کہ میاں صاحب کے لئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ انہیں نظر بد سے محفوظ رکھے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 367 تا 369۔روایت میاں محمد ظہور الدین صاحب ڈولی) حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب فرماتے ہیں۔میں جب مسجد مبارک میں جا کر نماز ادا کرتا ہوں تو نماز میں وہ حلاوت اور خشیت اللہ دل میں پیدا ہوتی ہے کہ دل محبت الہی سے سرشار ہو جاتا ہے۔مگر میرے دوستو ! جب اس نور الہی کے دیکھنے سے آنکھیں محروم رہتی ہیں تو مجھے کرب بے چین کر دیتا ہے اور وہ صحبت یاد آکر دل درد سے بھی پر ہو جاتا ہے۔اللہ اللہ اُس نور الہی کو دیکھ کر دل کی تمام تکلیفیں دور ہو جاتی تھیں اور حضرت اقدس کے پاک اور منور چہرے کو دیکھ کرنہ کوئی غم ہی رہتا ہے اور نہ کی کا گلہ شکوہ ہی رہتا تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب ہم جنت میں ہیں اور آپ کو دیکھ کر ہماری آنکھیں اُکتاتی نہ تھیں۔ایسا پاک اور منور رخ مبارک تھا کہ ہم نوجوان پانچوں نمازیں ایسے شوق سے پڑھتے تھے کہ ایک نماز کو پڑھ کر دوسری نماز کی تیاری میں لگ جاتے تھے تاکہ آپ کے بائیں پہلو میں ہمیں جگہ مل جاوے اور ہم نوجوانوں میں