خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 300
خطبات مسر در جلد دہم 300 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012 ء کا بیان ہورہا ہے ) کہ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود تنہا باغ میں اُس راستے پر چہل قدمی فرمار ہے تھے جو آموں کے درختوں کے نیچے جنوبا شمالاً واقع ہے اور ایک کنویں کے متصل جو اب متروک ہے ایک دروازے کے ذریعے جناب مرزا سلطان احمد صاحب کے باغ میں کھلتا ہے۔میں بھی حضور کے پیچھے پیچھے چلتی تھی۔(باغ میں چہل قدمی ہو رہی تھی، سیر کر رہے تھے ، ہل رہے تھے، میں بھی حضور کے پیچھے پیچھے چلتی تھی ) اور جہاں جہاں حضور کا قدم پڑتا تھا بوجہ محبت کے انہی نقشوں پر میں بھی قدم رکھتی جاتی تھی۔مجھے یہ پتہ تھا کہ ایسا کرنے میں برکت حاصل ہوتی ہے۔کہتی ہیں میری آہٹ سن کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے میری طرف دیکھا اور پھر دوبارہ چلنا شروع کر دیا۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 316-317 روایت حضرت سراج بی بی صاحبہ بزبان بدر الدین احمد صاحب) حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ہم سب بھی قادیان شریف سے دوستوں کے جلسہ پر جانے سے دوسرے روز ہی اپنے گھر کو واپس آگئے۔غالباً تین چار ماہ بعد یکا یک ہم لوگوں کو خبر لگی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لاہور میں وصال ہو گیا ہے۔میرے خسر قاضی زین العابدین صاحب اس خبر کو سن کر دیوانوں کی طرح ہو گئے۔ہمیں کچھ نہ سوجھتا تھا۔ہم اسی حالت میں سٹیشن سرہند پر پہنچے۔وہاں ایک اسٹیشن کے بابو نور احمد صاحب سے قاضی صاحب نے کہا کہ آپ لاہور کو تار دے کر دریافت کریں کہ کیا واقعی وہ بات درست ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہو گیا ہے؟ ہماری ایسی حالت کو دیکھ کر بہت سے غیر احمدی ہمارے پیچھے ہنسی مذاق کرتے ہوئے چلے آرہے تھے۔جو جس کے دل میں آتا تھا بکواس کرتا تھا۔ہم غم کے مارے دیوانوں کی طرح پھر اپنے گھر کو آگئے اور غیر احمدی بہت دور تک ہنسی مذاق کرتے ہوئے ہمارے پیچھے آئے۔آخر جھک مار کر واپس چلے گئے۔یہ واقعہ احمدی جماعت کے لئے بہت دردناک اور جان گھلا دینے والا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جانشین حضرت خلیفہ امسیح الاول مولانا نورالدین صاحب منتخب ہوئے۔ہم سب نے اپنی اپنی بیعت کے خطوط روانہ کر دیئے۔جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد پہلے جلسہ سالانہ پر گئے تو جہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بیٹھے یا کھڑے دیکھا تھا، ان جگہوں کو خالی دیکھ کر دل قابو سے نکلا جاتا تھا۔ہر وقت آنکھیں پرنم رہتی تھیں۔یہ جلسہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ہوا تھا جو آجکل کے جلسوں کو دیکھتے ہوئے معمولی سا جلسہ تھا۔اس میں خواجہ کمال الدین صاحب، مرزا یعقوب بیگ صاحب، مولوی صدرالدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب پیش پیش نظر آتے تھے اور سب کی نظریں انہیں پر پڑتی