خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 299

خطبات مسرور جلد دہم 299 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012 ء فرمائی۔کوٹ کو تو میں نے پہن لیا اور وہ جلدی پھٹ گیا اور ٹوپی میں نے سر پر رکھ لی۔جوتی جوتھی میں نے اپنے والد صاحب کو پہنا دی۔گھر جاتے ہوئے رستے میں ایک شخص ڈپٹی رینجر نے مجھے کہا کہ میر صاحب! آپ کے سر پر جوٹوپی ہے وہ میلی ہو گئی ہے، میں آپ کو امرتسر سے نئی ٹوپی لا دیتا ہوں۔میں نے کہا اس کے مرتبہ کی ٹوپی کہیں نہیں مل سکتی۔نہ زمین میں نہ آسمان میں۔کہنے لگا وہ کس طرح؟ میں نے کہا یہ مسیح پاک کے سر پر دو سال رہی ہے۔اُس نے کہا اچھا۔وہ نیک فطرت تھا۔چنانچہ وہ بھی بعد میں پھر حضور کا مرید ہو گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 179-180۔روایت میاں وزیر محمد خاں صاحب) حضرت مولوی عزیز دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ جتنی دفعہ مجھے حضرت صاحب سے آکر ملاقات کا موقع ملا، قریباً پچاس ساٹھ یا ستر دفعہ کا واقعہ ہو گا۔آتے ہی حضرت صاحب کے پاس اپنی پگڑی اتار کر رکھ دیتا تھا اور حضرت صاحب کے دونوں ہاتھوں کو اپنے سر پر ملتا تھا اور جب تک میں ہاتھ نہیں چھوڑتا تھا حضرت صاحب نے کبھی ہاتھ کھینچنے کی کوشش نہیں کی۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میری عمر ا کا سی سال کی ہے، میں کبھی بیمار نہیں ہوا۔البتہ قادیان میں ہی ایک دو چوٹیں معمولی سی لگی ہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 218-219۔روایت مولوی عزیز دین صاحب) حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب ولد شیخ مسیتا صاحب فرماتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب مسجد مبارک میں نماز سے فارغ ہو کر تشریف رکھتے تو ہماری خوشی کی انتہا نہ رہتی، کیونکہ ہم یہ جانتے تھے کہ اب اللہ تعالیٰ کی معرفت کے نکات بیان فرما کر محبت الہی کے جام ہم پئیں گے اور ہمارے دلوں کے زنگ دور ہوں گے۔سب چھوٹے بڑے ہمہ تن گوش ہو کر اپنے محبوب کے پیارے اور پاک منہ کی طرف شوق بھری نظروں سے دیکھا کرتے تھے کہ آپ اپنے رُخ مبارک سے جو بیان فرمائیں گے اُسے اچھی طرح سُن لیں۔یہ حال تھا آپ کے عشاق کا کہ آپ کی باتوں کو سننے سے کبھی ہم نہ تھکے اور حضرت اقدس کبھی اپنے دوستوں کی باتیں سننے سے نہ گھبراتے تھے اور نہ روکتے تھے۔میں نے کبھی آپ کو سرگوشی سے باتیں کرتے نہیں دیکھا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 94 روایت حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب) بدرالدین احمد صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ کراچی۔حضرت سراج بی بی صاحبہ دختر سید فقیر محمد صاحب افغان جو حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید مرحوم کے شاگردوں میں سے تھے، اُن کی روایت بیان کرتے ہیں (چھوٹی بچیوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ محبت کیا تھی ؟ اُس