خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 298 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 298

298 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012ء خطبات مسر در جلد دہم (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 158-159۔روایت میاں عبدالرزاق صاحب ) حضرت میاں وزیر محمد خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ : میں جس روز آیا، ایک اور شخص بھی میرے ساتھ تھا جو یہاں آکر بیمار ہو گیا اور میں جو بیمار تھا تندرست ہو گیا۔پہلے میری یہ حالت تھی کہ میں چند لقمے کھاتا تھا اور وہ بھی ہضم نہ ہوتے تھے مگر یہاں آکر دو روٹی ایک رات میں کھا لیتا تھا۔واپس امرتسر گیا۔پھر وہی حالت ہو گئی۔پہلی دفعہ جو حضرت صاحب کی زیارت ہوئی تو مسجد مبارک کے ساتھ کے چھوٹے کمرے میں وضو کر رہا تھا کہ حضرت اقدس اندر سے تشریف لائے۔جو نہی حضور کا چہرہ دیکھا تو عقل حیران ہو گئی اور خدا کے سچے بندوں کی سی حالت دیکھ کر بے خود ہو گیا۔جمعہ کے دن میں کچھ ایسی حالت میں تھا کہ حضرت صاحب کے نزدیک کھڑے ہو کر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی۔اُس وقت حضرت صاحب کی ایک توجہ ہوئی۔اُس کے بعد میں بہت سخت رویا۔( یعنی ایک نظر سے دیکھا، توجہ سے دیکھا، اُس کا ایسا اثر ہوا کہ میں بہت سخت رویا، نماز میں بھی اور نماز سے پہلے بھی۔کہتے ہیں کہ صوفیاء کے مذہب میں یہ نسل کہلاتا ہے۔عصر کے وقت جب حضور سے پھر ملاقات ہوئی تو حضور نے فرمایا کہ کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا حضور! اب اچھا ہو گیا ہوں۔پہلے وقت جب ہم قادیان آئے تو اُس وقت کوئی لنگر خانہ نہیں تھا۔( یعنی پہلی دفعہ جب آئے ہیں ) حضرت صاحب کے گھر سے روٹی اور اچار آیا، وہ کھا یا۔اُس وقت وہ کمرہ جس میں آجکل موٹر ہے اُس میں پریس تھا۔مہمان بھی وہیں ٹھہر جاتے تھے۔میں بھی وہیں ٹھہرا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 189 - 190۔روایت میاں وزیر محمد خاں صاحب) حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحب بیان کرتے ہیں کہ میر مہدی حسین فرماتے ہیں۔ایک مرتبہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے برف لینے کے لئے امرتسر بھیجا۔راستے میں ریل میں بیٹھے ہوئے میں نے سر جو باہر نکالا تو میری ٹوپی جو مکمل کی تھی ، سر نکالنے سے اُڑ گئی۔امرتسر سے میں جب برف لے کر واپس آیا تو میر ناصر نواب صاحب نے کہا کہ کیا تم کوکسی نے مارا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔انہوں نے کہا کہ پھر ننگے سر کیوں ہو؟ میں نے کہا میری ٹوپی رستے میں اُڑ گئی ہے۔انہوں نے جا کر حضرت صاحب سے ذکر کر دیا۔حضرت صاحب نے فرمایا۔ہاں ہم ٹوپی دیں گے۔میں نے پھر مطالبہ نہ کیا بلکہ ایک دو آنے کی ٹوپی خرید لی۔( دو آنے میں ایک ٹو پی ملتی تھی وہ لے لی اور سر پر رکھ لی۔کوئی چھ ماہ کے بعد حضرت صاحب نے ایک ٹوپی اور ایک الپا کا کا کوٹ اور ایک پاپوش عطا فرمائے۔(الپا کا ایک جانور ہے ساؤتھ امریکہ میں ہوتا ہے جس کی اون سے بڑا نفیس عمدہ گرم کپڑا بنتا ہے تو اُس کا کوٹ اور ایک پاپوش ، جوتی عطا