خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 297 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 297

خطبات مسرور جلد دہم 297 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012ء مرزا صاحب کی خدمت میں ہی رہوں گا۔اور اگر تم نے واپس نہ کیا تو میں چھلانگ لگا دوں گا جو مجھے اُٹھا کے لے جا رہے ہو۔چنانچہ ہم اُسے واپس لائے اور حضرت صاحب کو اطلاع بھجوائی۔فرمایا اچھا رہنے دو۔یہ یہاں ہی فوت ہوگا۔مگر یہ خیال رکھنا کہ چلتا پھرتا مرے گا۔یہ نہ سمجھنا کہ بیمار ہوگا، لیٹا ہوا۔اچانک وفات ہو جانی ہے۔لیٹا ہوا نہیں مرے گا۔جس دن اُس نے مرنا تھا۔بازار چلا گیا اور دودھ پیا اور شام کے قریب گھر آیا۔ماں کو کہنے لگا کہ ماں اب دیا گل ہو چلا ہے۔والدہ مجھی کہتا ہے شام ہوگئی ہے۔دیا جلاؤ۔مگر اُس نے کہا کہ میرا مطلب یہ نہیں ، یہ مطلب ہے۔اُس کو بھی خبر پہنچ گئی تھی۔والدہ نے اُسے کھڑے کھڑے چھاتی سے لگایا۔مگر اُسی حالت میں اُس کی جان نکل گئی۔حضرت صاحب نے جنازہ پڑھایا اور یہیں تدفین کی۔کہتے ہیں جنازہ اس قدر لمبا پڑھایا کہ ہم لوگ تھک گئے۔لوگ رور ہے تھے۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 66-67۔روایت حضرت شیخ زین العابدین برادر حافظ حامد علی صاحب) حضرت میاں عبدالرزاق صاحب بیان کرتے ہیں۔میں بڑی خواہش سے (وہ) مقدمہ سننے کے لئے ( جو جہلم کا مشہور مقدمہ ہے ) حضور کی تشریف آوری سے ایک دن پہلے جہلم پہنچ گیا۔گاڑی کے آنے سے دو گھنٹے پیشتر سٹیشن پر پہنچ گیا تھا۔میں نے سٹیشن پر نظارہ دیکھا ہے کہ دس دس فٹ پر پولیس کے سپاہی کھڑے تھے۔لوگ دیواروں پر چڑھنے کی کوشش کرتے تھے مگر پولیس اندر نہیں جانے دیتی تھی۔گاڑی آنے کے وقت اس قدر ہجوم ہو گیا کہ آخر پولیس کا میاب نہ ہو سکی۔تمام خلقت دیوار میں پھاند کر اندر چلی گئی۔جب حضرت صاحب گاڑی سے اترنے لگے تو ایک گلی باہر تک پولیس کی مدد سے احمدی دوستوں نے بنادی۔اس گلی میں سب سے پہلے چوہدری مولا بخش صاحب جو سیالکوٹ کے مشہور احمدی تھے گزرے اور گاڑی تک گئے۔اُن کے بعد حضرت صاحب تشریف لے گئے اور ساتھ ہی مولوی عبداللطیف صاحب شہید کا بل والے اور مولوی محمد احسن صاحب بھی تھے اور بند گاڑی میں بیٹھ گئے۔گاڑی کا چلنا ہجوم کے سبب سے بہت ہی مشکل ہو گیا۔اُس وقت غلام حیدر تحصیلدار نے بہت ہی محبت کے ساتھ انتظام شروع کیا۔ایک تو پولیس کو انتظام کرنے کے لئے زور دیا اور دوسرے خلقت کو باز رکھنے کی کوشش کی۔وہ ہنٹر ہاتھ میں لے کر جلال کے ساتھ چکر لگا رہا تھا۔ہمار اول تو اس وقت غمگین تھا کہ خدا کرے حضور خیریت سے کوٹھی پر پہنچ جائیں۔اُس وقت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی جو گاڑی کے آگے آگے ایک بیگ بغل میں دبائے ہوئے چل رہے تھے کسی وقت جوش میں آکر یہ بھی کہہ دیتے تھے۔( کہتے ہیں مجھے واقعہ یاد ہے) کہ کیڑی کے گھر نارائن آیا حتی کہ حضرت صاحب کو ٹھی پر پہنچ گئے۔