خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 294
خطبات مسرور جلد دہم 294 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012 ء سچا عاشق ہے۔اس کے بعد جب مسجد سے باہر آئے تو مولوی صاحب نے چوک میں وعظ کے رنگ میں بیان کیا کہ جس شخص کو اُس کا معشوق یہ کہہ دے کہ میرا یہ عاشق ہے اس کو اور کیا چاہئے؟۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 26۔روایت حضرت ماسٹر و دھاوے خاں صاحب) حضرت ماسٹر مولا بخش صاحب ولد عمر بخش صاحب فرماتے ہیں : ایک دفعہ یہاں ( قادیان ) آیا ہوا تھا۔تعطیلات کے دو تین دن باقی تھے۔میں حضور سے اجازت لے کر روانہ ہو کر جب خاکروبوں کے محلے کے باہر بٹالہ کے راستے پر چلا گیا تو آگے جانے کو دل نہ چاہا۔وہیں کھیت میں بیٹھ گیا اور چلا چلا کر زارو زار رویا اور واپس آ گیا۔( جانے کو دل نہیں کر رہا تھا، ایک بے چینی تھی اور بہر حال بیٹھ کر رو کے وہیں سے واپس آ گیا) موسمی تعطیلات ختم کر کے پھر گیا۔یہ حضور کی محبت کا اثر تھا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعه جلد 7 صفحه 147 - 146 روایت حضرت ماسٹر مولا بخش صاحب) حضرت مولوی محب الرحمن صاحب بیان فرماتے ہیں کہ : میں حضرت والد صاحب کے ہمراہ نانوے (1899ء میں ) قادیان گیا۔بٹالہ سے یکے پر سوار ہو کر ہم قادیان پہنچے، جس وقت یکہ مہمان خانے کے دروازے پر پہنچا تو والد صاحب یکہ پر سے کود کر بھاگتے ہوئے چلے گئے۔یکے والے نے اسباب باہر نکالا ( سامان نکالا ) اور میں وہاں حیران کھڑا تھا کہ والد صاحب خلاف عادت اس طرح کو دکر بھاگ گئے ہیں۔کیا وجہ ہے؟ تھوڑے عرصے میں حافظ حامد علی صاحب باہر آئے اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ اسباب میاں حبیب الرحمن صاحب کا ہے؟ مجھ سے ہاں میں جواب سن کر وہ اسباب مہمان خانے میں لے گئے اور میں بھی ساتھ چلا گیا۔کچھ دیر کے بعد والد صاحب واپس تشریف لے آئے۔اگلے روز صبح کو بعد نماز فجر والد صاحب مجھے اپنے ہمراہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکان پر لے گئے۔کمرے کے دروازے پر پہنچنے پر حضرت صاحب نے دروازہ خود کھولا۔ہم اندر کمرے میں داخل ہوئے جو بیت الفکر کے ساتھ والا کمرہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تخت پوش پر جس کے سامنے ایک میز رکھی تھی اور اس پر بہت ساری کتابیں تھیں ، وہاں تشریف فرما ہوئے۔ہم دونوں ایک چار پائی پر بیٹھ گئے جو قریب میں ہی تھی۔والد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بہت دیر تک باتیں کیں۔اس کے بعد والد صاحب نے عرض کیا کہ میں محب الرحمن کو بیعت کے لئے لایا ہوں۔آپ نے فرمایا اس کی تو بیعت ہی ہے۔( یعنی باپ نے کر لی تو اُس کے ساتھ ہی بچے بھی شامل ہو گئے ، اس لئے بیعت تو پہلے ہی ہے ) والد صاحب نے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ بیعت کر لے تو دعاؤں میں شامل ہو