خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 295
خطبات مسرور جلد دہم 295 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012 ء جائے گا۔فرمایا اچھا آج شام کو بیعت لے لیں گے۔چنانچہ اُس دن شام کو بعد نماز مغرب خاکسار نے اور بھی بہت دوستوں کے ساتھ بیعت کی۔بیعت کرنے کے بعد پھر ایک نیا احساس پیدا ہوا ہے۔کہتے ہیں اُس وقت میں سمجھا کہ والد اُس روز جس دن ہم پہنچے تھے، یگے سے والہانہ طریق پر اتر کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملنے ہی گئے تھے۔یہی وجہ تھی۔یہ عشق و محبت تھا جس نے انہیں بے چین کیا اور اترتے ہی سیدھے حضور کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔والد صاحب کا معمول تھا کہ قادیان پہنچتے ہی پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے اور روزمرہ صبح کے وقت بھی علیحدگی میں حاضر خدمت ہوتے تھے۔66 (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحہ 84-85 روایت مولوی محب الرحمن صاحب) حضرت حاجی محمد موسیٰ صاحب بیان کرتے ہیں کہ : ایک دفعہ میرے لڑکے عبدالمجید نے جس کی عمر اس وقت قریباً چار برس کی تھی۔اس بات پر اصرار کیا کہ میں نے حضرت صاحب کو چمٹ کر یعنی چھی“ ڈال کر ملنا ہے۔اُس نے مغرب کے وقت سے لے کر صبح تک یہ ضد جاری رکھی اور ہمیں رات کو بہت تنگ کیا۔صبح اُٹھ کر پہلی گاڑی میں اُسے لے کر بٹالہ پہنچا اور وہاں سے ٹانگے پر ہم قادیان گئے اور جاتے ہی حضرت صاحب کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ عبدالمجید آپ کو ملنا چاہتا ہے۔گلے ملنا چاہتا ہے یا جبھی ڈالنا چاہتا ہے۔( چھوٹا سا بچہ ہی تھا۔چار سال عمر تھی ) حضور اس موقع پر باہر تشریف لائے اور عبدالمجید آپ کی ٹانگوں کو چمٹ گیا اور اس طرح اُس نے ملاقات کی اور پھر وہ چار سال کا بچہ کہنے لگا کہ ”ہن ٹھنڈ پے گئی اے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 12 روایت حضرت حاجی محمد موسیٰ صاحب) حضرت میاں عبدالغفار صاحب جراح بیان کرتے ہیں کہ : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت صاحب سیڑھیوں سے تشریف لائے اور احمد یہ چوک میں آکر کھڑے ہو گئے۔مجھے یاد ہے کہ حضور نے اپنی سوٹی کمر کے ساتھ لگا کر اُس پر ٹیک لگائی۔میں اُس وقت حضرت خلیفہ اول کے شفا خانے پر کھڑا تھا۔میں نے حضور کو دیکھ کر اپنے والد صاحب کو کہا کہ بابا ! حضرت صاحب آگئے۔والد صاحب نے کہا: اونچے مت بولو۔لوگ آوازسن کر دوڑ آئیں گے اور جمگھٹا ہو جائے گا اور ہمیں حضور کی باتیں سننے کا لطف نہیں آئے گا۔( یہ بھی عشق و محبت کی باتیں ہیں کہ ہمارے درمیان اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درمیان اور لوگ حائل نہ ہو جائیں یا زیادہ لوگ نہ آجائیں ، یا اتنے لوگ پہلے ہی اکٹھے ہو جائیں کہ ہم اُن تک پہنچ نہ سکیں )۔چنا نچہ کہتے ہیں وہ اٹھے۔حضور سے مصافحہ کیا۔حضرت صاحب نے میرے والد صاحب کو کہا کہ