خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 293

خطبات مسرور جلد و هم 293 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012ء میں قادیان آئے۔ایک دن جبکہ میں حضرت خلیفہ اسیح الاول کی خدمت میں حاضر تھا، نواب صاحب کے دو اہلکار ایک سکھ اور ایک مسلمان آئے اور عرض کیا کہ نواب صاحب کے علاقے میں وائسرائے آنے والے ہیں۔آپ ان لوگوں کے تعلقات سے واقف ہیں۔نواب صاحب کا منشاء ہے کہ چند روز کے لئے حضور ان کے ہمراہ چلیں ( یعنی خلیفہ اول کو کہا )۔انہوں نے ( حضرت مولانا نورالدین صاحب حضرت خلیفہ اول نے ) فرمایا کہ میں اپنی جان کا آپ مالک نہیں۔میرا ایک آتا ہے اُس سے پوچھو۔چنانچہ ظہر کے وقت میں مسجد مبارک میں ان ملازمین نے حضرت نبی اللہ کی خدمت میں عرض کیا۔حضور علیہ السلام نے فرمایا اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر ہم مولوی صاحب کو آگ میں ڈالیں انکار نہیں کریں گے۔پانی میں ڈبوئیں تو انکار نہیں کریں گے۔لیکن اُن کے وجود سے یہاں ہزاروں انسانوں کو فیض پہنچتا ہے۔ایک دنیا دار کی خاطر ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اتنے فیضان بند کر دیں۔اگر ان کو ( یعنی جو نواب صاحب تھے ) زندگی کی ضرورت ہے تو یہاں رہ کر علاج کرائیں اور یہ نہیں ہے کہ وائسرائے صاحب آرہے ہیں تو ان کی طرف چلے جاؤ ، کیونکہ یہاں غریبوں کا فائدہ ہو رہا ہے اس لئے اولیت غرباء کی ہے۔( آگے یہ حضرت خلیفہ اول کا اس پر جور د عمل،اظہار تھا وہ روایت کرتے ہیں۔ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اظہار تھا کہ پانی میں ڈالوں، آگ میں ڈالوں تو کود جائیں گے۔خلیفہ اول کے اظہار کے بارے میں یہ بیان کرتے ہیں کہ ) اُسی دن بعدۂ صلوۃ عصر حضرت خلیفہ اول درس قرآن کے وقت فرمانے لگے ( نماز عصر کے بعد جو درس قرآن تھا اُس میں فرمانے لگے ) کہ آج مجھے اس قدر خوشی ہے کہ مجھ سے بولا تک نہیں جاتا۔ایک میرا آقا ہے۔مجھے ہر وقت یہی فکر رہتی ہے کہ وہ مجھ سے خوش ہو جائے۔آج کس قدر خوشی کا مقام ہے کہ وہ میری نسبت ایسا خیال رکھتا ہے کہ اگر میں نورالدین کو آگ میں ڈالوں تو انکار نہیں کرے گا۔پانی میں ڈبوؤں تو انکار نہیں کرے گا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 397-398 روایت حضرت اللہ دتہ صاحب ہیڈ ماسٹر ) حضرت ماسٹر ودھاوے خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ : ماسٹر اللہ دتہ صاحب ریٹائر ڈ سکول ماسٹر حال قادیان محلہ دار الرحمت نے جبکہ وہ گوجرانوالہ میں قلعہ دیدارسنگھ (سکول ) میں نائب مدرس تھے، مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ قادیان میں میں گیا ہوا تھا تو مسجد مبارک میں حضور علیہ السلام احباب میں تشریف فرما تھے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب بھی وہاں پر موجود تھے۔حضور نے اُن کی طرف ( یعنی حضرت خلیفہ اسی الاول حضرت حکیم مولانا نورالدین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ شخص میرا