خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 253
خطبات مسرور جلد دہم 253 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء طاعون سے محفوظ رہے گی اور کوئی اندیشہ نہیں۔اس کے بعد میں نے جھاڑو دے کر مکان کو صاف کر دیا۔دوسرے دن پھر ایسا ہی واقعہ ہوا اور چوہوں کے ساتھ کیڑے بھی بہت سے تھے۔میں نے پھر اُن کو صاف کر دیا اور اہلیہ کوتسلی دی کہ کوئی فکر نہیں۔ہماری جماعت اس سے محفوظ رہے گی۔تیسرے چوتھے دن کے بعد رات کے بارہ بجے مجھے میری اہلیہ نے کہا کہ مجھے تو گلٹی نکل آئی ہے۔( یعنی طاعون کی گلٹی )۔میں نے بڑی تسلی اور یقین کے ساتھ کہا کہ گھبرائیں نہیں۔میں صبح ہی حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کا خط لکھ دوں گا۔چنانچہ میں نے صبح ہی خط لکھ دیا اور میر اخیال ہے کہ وہ خط ابھی قادیان نہیں پہنچا ہوگا کہ وہ گلٹی نا پید ہوگئی ( ختم ہوگئی ) اور میری اہلیہ بالکل تندرست ہوگئی۔اسی طرح پھر دوسرے تیسرے دن میرے لڑکے عبد الکریم کو جو ایک سال کا ہوگا اُسے گلٹی نکل آئی۔میں نے پھر حضور کی خدمت میں دعا کے لئے خط لکھ دیا اور گھر والوں کو بہت تسلی دی۔چنانچہ و گلٹی بھی خود بخود ختم ہو گئی۔اُس وقت پلیگ کا اس قدرز ور تھا کہ روزانہ دواڑھائی صد آدمی بیماری سے مرتا تھا اور اس شرح موت کا ذکر کمیٹی کی طرف سے روزانہ ہوتا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ - جلد 11 صفحہ 26 اس بارے میں یہ وضاحت کر دوں کہ جب طاعون پھیلی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض ہدایات بھی جاری فرمائی تھیں، شاید اُن تک پہنچی نہ ہوں یا انہوں نے اُس کو صحیح طرح سمجھا نہیں ورنہ صحابہ تو جو بھی صورتحال ہو فورا عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی طرف سے جو بھی ارشاد آئے ، وہ ارشاد یا آگے پیچھے ہو گیا ہو یا یہ واقعہ بعد کا ہے یا پہلے کا۔بہر حال یہ ان کی ایمان کی مضبوطی تو ہے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے ایمان کو مضبوط کیا بلکہ ان کے بیوی بچوں کو بھی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس وقت جب ہر محلے میں ہر جگہ یہ طاعون پھیل گئی ہے جو ہدایات فرمائی تھیں ، وہ یہ تھیں۔آپ نے ایک جگہ فرمایا تھا کہ یہ ہمارا حکم ہے۔بہتر ہے کہ لاہور کے دوست اشتہار دے دیں کہ جس گھر میں چوہے مریں اور جس کے قریب بیماری ہو، فوراًوہ مکان چھوڑ دینا چاہئے ( یا لوگ سمجھے کہ یہ صرف لاہور کے لئے ہے۔لیکن بہر حال ایک عمومی حکم ہے کہ بیماریوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جو و بائیں ہوں اُن کا بہر حال تدارک کرنا چاہئے۔) فرمایا کہ فوراًوہ مکان چھوڑ دینا چاہئے اور شہر کے باہر کسی کھلے مکان میں چلا جانا چاہئے۔یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔ظاہری اسباب کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے۔گندے اور تنگ و تاریک مکانوں میں رہنا تو ویسے بھی منع ہے خواہ طاعون ہو یا نہ ہو۔ہر ایک پلیدی سے پر ہیز رکھنا چاہئے۔کپڑے صاف ہوں۔جگہ ستھری ہو۔بدن پاک رکھا