خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 252
خطبات مسرور جلد دہم 252 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء ابھی حق نہ تھا۔میں نے بمع دوسرے دوست کے امرتسر کا ٹکٹ لیا۔کیونکہ ہمارے پاس قادیان کا کرایہ پورا نہ تھا۔امرتسر پہنچ کر ہمارا ٹکٹ ختم ہو گیا اور ہم نے بٹالے والی گاڑی میں سوار ہونا تھا مگر ہمارے پاس صرف آٹھ آنے کے پیسے تھے۔اس لئے ہم نے دو دو آنے کا ویر کے کا ٹکٹ لے لیا اور گاڑی میں سوار ہو گئے۔ویر کہ سٹیشن پر جب گاڑی پہنچی تو ہمارا ٹکٹ ختم ہو چکا تھا مگر ہم نہ اُترے اور گاڑی روانہ ہو گئی۔جب دوسرے سٹیشن کے درمیان گاڑی جارہی تھی کہ ریلوے کا ایک ملازم ٹکٹ پڑتال کرنے آیا اور سب مسافروں سے ٹکٹ دیکھنا شروع کیا۔چونکہ ہمارا ٹکٹ پچھلے سٹیشن کا تھا اور ہمارے پاس رقم بھی نہ تھی۔ہم دونوں اپنی بے عزتی ہونے کی وجہ سے بہت پریشان اور ہراساں ہوئے اور سوائے اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ہم دونوں نے مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہم تیرے بچے مسیح کی خدمت میں جار ہے ہیں۔ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔اپنے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خاطر جو تیرا پیارا ہے ہماری پردہ پوشی فرما اور ہم کو بے عزتی اور رسوائی سے بچا۔اللہ تعالیٰ نے ہماری دعا قبول فرمائی۔جب ریلوے ملازم نے ہم سے ٹکٹ طلب کیا تو ہم نے وہی ٹکٹ جو پچھلے سٹیشن کے تھے اُس کو دے دیئے اور مجھے خوب یاد ہے کہ اُس نے وہ ٹکٹ اچھی طرح دیکھ کر ہم کو واپس دے دیئے اور ہمیں کچھ بھی نہ کہا اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔یہ ہمارے لئے ایک معجزہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے اور پاک مسیح کی خاطر ہماری پردہ پوشی فرمائی اور ہم کو رسوائی سے بچا لیا اور یہ واقعہ ہمارے لئے تقویت ایمان کا باعث ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی ہمارے لئے اظہر من الشمس ہوگئی۔بٹالہ سے اتر کر ہم پیدل قادیان کے لئے روانہ ہوئے اور ظہر کے وقت دار الامان پہنچے۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد 3 صفحہ 121-123) حضرت اللہ دتہ صاحب ہیڈ ماسٹر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہزاروں موتوں اور آفات سے غیر معمولی فضل سے بچایا۔میں نے سانپوں کو پکڑا۔سانپوں پر چڑھ گیا اور سانپ مجھ پر چڑ ھے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر جگہ سے بال بال بچایا۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد 7 صفحہ 121) حضرت ماسٹر ودھاوے خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ امرتسر کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ یہاں پر طاعون بہت زوروں پر تھی۔میں ایک دن سکول سے گھر آیا تو میری اہلیہ صاحبہ دروازے پر کھڑی تھیں۔میں نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے اندر چوہے مرے پڑے ہیں اور گھبراہٹ کا اظہار کیا۔میں نے بڑے یقین سے کہا کہ فکر نہ کرو۔ہماری جماعت