خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 254
254 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء خطبات مسرور جلد دہم جائے۔یہ ضروری باتیں ہیں اور دعا اور استغفار میں مصروف رہنا چاہیئے۔پھر آگے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے زمانہ میں بھی طاعون ہوئی تھی۔ایک جگہ مسلمانوں کی فوج گئی ہوئی تھی۔وہاں سخت طاعون پڑی۔جب مدینہ شریف میں امیر المومنین کے پاس خبر پہنچی تو آپ نے حکم لکھ بھیجا کہ فوراً اس جگہ کو چھوڑ دو اور کسی اونچے پہاڑ پر چلے جاؤ۔چنانچہ وہ فوج اُس سے محفوظ ہوگئی۔اُس وقت ایک شخص نے اعتراض بھی کیا کہ کیا آپ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ فرمایا میں ایک تقدیر خداوندی سے دوسری تقدیر خداوندی کی طرف بھاگتا ہوں اور وہ کونسا امر ہے جو خدا تعالیٰ کی تقدیر سے باہر ہے۔“ ( ملفوظات جلد نہم۔صفحہ 248) تو یہ عمومی ہدایت ہے۔یہ بھی نہیں کہ جان بوجھ کے اپنے آپ کو مشکلات میں ڈالا جائے۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ” خدا تعالیٰ نے دو وعدے اپنی وحی کے ذریعے سے کئے ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ اس گھر کے رہنے والوں کو طاعون سے بچائے گا جیسا کہ اُس نے فرمایا ہے کہ اِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدار۔دوسرا وعدہ اُس کا ہماری جماعت کے متعلق ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولئِكَ لَهُمُ الْآمْنُ وَهُمْ مَّهْتَدُونَ ( ترجمہ ) جن لوگوں نے مان لیا ہے اور اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کو نہ ملایا۔ایسے لوگوں کے واسطے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے کہ جماعت کے وہ لوگ بچائے جائیں گے جو پوری طرح سے ہماری ہدایتوں پر عمل کریں اور اپنے اندرونی عیوب اور اپنی غلطیوں کی میل کو دور کر دیں گے۔اور اپنے نفس کی بدی کی طرف نہ جھکیں گے۔بہت سے لوگ بیعت کر کے جاتے ہیں مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے۔صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کیا بنتا ہے؟ خدا تعالیٰ تو دلوں کے حالات سے واقف ہے۔“ پس یہ دو باتیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وعدے ہیں۔ہر مشکل، ہر مصیبت، ( بدر جلد 6 نمبر 14 صفحہ 7 مؤرخہ 14اپریل 1907ء) ہر وبا سے بچنے کے لئے ہمیں اپنے ایمانوں کی طرف دیکھنے کی ہر وقت ضرورت ہے کہ کس حد تک ہم اپنے ایمان میں کامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں؟ حضرت مولوی صوفی عطا محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اب ملنا میرے لئے مشکل تھا ( یعنی جن حالات میں وہ تھے ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملنا مشکل تھا) کیونکہ رخصت تو ملتی نہیں تھی۔اتفاق سے اخبار میں یہ پڑھا کہ حضرت اقدس جہلم تشریف لا رہے ہیں اور مجھے تو جہلم جانے کی بھی اجازت نہ مل سکتی تھی مگر میں بہت بیقرار تھا۔گھر والوں کو میں نے کہا کہ کل اتوار ہے