خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 251

خطبات مسرور جلد دہم 251 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012ء متعلق کئی سوال کئے کہ آپ مکان کے نیچے دب کر کس طرح زندہ نکل آئے۔تو بندہ نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے مستری اللہ بخش صاحب احمدی کی چار پائی نے بچایا جو ایک بڑی دیوار کو اپنے اوپر اُٹھائے رکھے، ( جس نے بڑی دیوار کو اپنے اوپر اٹھائے رکھا) اور مجھے زیادہ بوجھ میں نہ دبنا پڑا۔ایسے ہی حضور نے اور احمدیوں کے متعلق سوالات کئے اور بندہ نے سب دوستوں کے محفوظ رہنے کے متعلق شہادت دی۔حالانکہ حضور اس سے قبل اشتہار میں شائع فرما چکے تھے کہ زلزلے میں ہماری جماعت کا ایک آدمی بھی ضائع نہیں ہوا۔اور مجھے یقین ہے کہ حضور کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا علم ہو چکا تھا۔ورنہ مجھ سے قبل دھرم سالے سے کوئی احمدی حضور کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا تھا۔( دھرم سالے سے کوئی احمدی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں نہیں آیا تھا۔یہ پہلے آدمی آئے تھے اور ان سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ساری تفصیلات معلوم کیں۔لیکن جو اشتہار تھا کہ اس زلزلے میں کسی بھی احمدی کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا، اس بارے میں آپ نے اشتہار فرما دیا تھا۔) تو کہتے ہیں پس حضور سے بندہ کی ملاقات جو زلزلہ کانگڑہ کے بعد ہوئی، اس میں احمدیوں کے بچ جانے کو حضور نے ایک نشان قرار دیا ہے اور خصوصاً میرا اپنا زلزلہ میں دب کر بچ جانا نشان ہے جس کا بذریعہ تحریر اعلان کر دیا گیا ہے۔مبارک وہ جو اس چشم دید نشان سے عبرت پکڑیں اور خدا کے فرستادے پر ایمان لائیں۔“ 66 (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ۔غیر مطبوعہ - جلد 3 صفحہ 1-3) حضرت چوہدری عبدالحکیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ اتفاقاً میری ملاقات مولوی بدرالدین احمدی سے ہوئی جو شہر کے اندر ایک پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔انہوں نے مجھے اخبار الحکم پڑھنے کو دیا۔مجھے یاد ہے کہ اخبار الحکم کے پہلے صفحے پر خدا تعالیٰ کی تازہ وحی اور کلمات طیبات امام الزمان لکھے ہوئے ہوتے تھے۔( دو ہیڈنگ ہوتے تھے کہ تازہ وحی اور کلمات طیبات امام الزمان۔پہلے صفحہ پر یہ دو عنوان ہوتے تھے۔) کہتے ہیں میں ان کو پڑھتا تھا اور میرے دل کو ایک ایسی کشش آور محبت ہوتی تھی کہ فوراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقدس میں پہنچوں۔اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہوا اور باوجود اہلِ حدیث کے مولویوں کے بہکانے اور ورغلانے کے میں نے تھوڑے ہی عرصے میں قبول کر لیا۔مولوی بدرالدین صاحب نے مجھے قادیان فوراً جانے کا مشورہ دیا اور میرے ساتھ ایک اور اہلِ حدیث مولوی بھی تیار ہو گئے۔وہ مولوی سلطان محمود صاحب اہلِ حدیث کے شاگر دخاص تھے۔لکھتے ہیں کہ میری تنخواہ اُس وقت پندرہ روپے تھی اور غربت کی حالت تھی۔میں نے رخصت لے لی۔چونکہ ریلوے پاس کا