خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 250
خطبات مسرور جلد دہم 250 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء ( جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے ) اور حضور کے شائع فرمودہ اشتہارات ہمراہ لے کر دھرم سالہ چھاؤنی پہنچا اور وہ اشتہارات متعدد اشخاص کو تقسیم بھی کئے تھے۔چونکہ بندہ وہاں بطور کلرک کام کرتا تھا اور عارضی ملازمت میں مجھے فرصت حاصل تھی۔اس لئے بندہ وہاں وقتاً فوقتاً مرزا رحیم بیگ صاحب احمدی صحابی کو بھی ملنے جایا کرتا تھا۔مرزا صاحب موصوف مغلیہ برادری کے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اُن کے دوسرے بھائی احمدی نہ تھے۔صرف اُن کی اپنی بیوی بچے اُن کے ساتھ احمدی ہوئے اور باقی تمام لوگ اُن کی سخت مخالفت کرتے تھے۔اور جو احمدی ہوئے یہ سب لوگ جو تھے وہ محفوظ رہے اور بعض اور احمدی بھی جو مختلف اطراف سے وہاں پہنچے ہوئے تھے۔مختلف جگہوں سے آئے ہوئے وہاں رہتے تھے۔یہ کہتے ہیں وہ بھی سب کے سب اس زلزلے کی تباہی میں بچ گئے۔وہ لکھتے ہیں کہ حالانکہ میرے خیال میں جو اموات کا اندازہ تھا نوے فیصد جانوں کا نقصان تھا۔اور ایسے شدید زلزلے میں ہم سب احمدیوں کا بچ جانا ایک عظیم الشان نشان تھا۔اس کی تفصیل اگر پوری تشریح سے لکھوں تو یقیناً ہر طالب حق خدا تعالیٰ کی نصرت کو احمدیوں کے ساتھ دیکھے گا۔( یعنی جو حق کو جاننا چاہتا ہے وہ اس زلزلے کے واقعات کو سن کر ہی یقیناً یہ محسوس کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت احمدیوں کے ساتھ ہے۔) کہتے ہیں کہ کیونکہ میرے اہل وعیال بلکہ خانصاحب گلاب خان صاحب کے اہل و عیال اور مستری اللہ بخش صاحب سیالکوٹی اور اُن کے ہمراہ غلام محمد مستری اور دوسرے احمدی احباب کے اس زلزلے کی لپیٹ سے محفوظ رہنے کے متعلق جو قدرتی اسباب ظہور میں آئے اُن میں ایک ایک فرد کے متعلق جدا جدا نشان نظر آتا ہے۔خصوصا مستری الہی بخش صاحب کی وہاں سے ایک دن قبل اتفاقی روانگی اور ہمارے اہل و عیال کا کچھ عرصہ قبل وہاں سے وطن کی طرف مراجعت کرنا (واپس آنا) اور زلزلے سے پیشتر بعض احباب کا دوکان سے باہر نکل جانا اور زلزلے میں دب کر عجیب و غریب اسباب سے باہر نکلنا، یعنی جو دب گئے وہ سب باتیں بھی بطور نشان تھیں۔اور میرا ارادہ ہے کہ اُس پر تفصیل سے ایک مضمون لکھ کر ارسال خدمت کروں۔( پتہ نہیں بعد میں انہوں نے لکھا کہ نہیں لیکن بہر حال کہتے ہیں فی الحال مختصراً ان مقامات کا تذکرہ کیا گیا ہے ( جب انہوں نے روایت درج کروائی ہے ) جن کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقات کے سلسلے میں پیش آیا۔کہتے ہیں اس زلزلے کے کچھ دن بعد جب خاکسار قادیان میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور ان ایام میں آم کے درختوں کے سائے میں مقبرہ بہشتی کے ملحقہ باغ میں خیمہ زن تھے۔( خیمہ میں رہا کرتے تھے۔) جب بندہ نے حضور سے ملاقات کی تو حضور نے میرے