خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 245
خطبات مسر در جلد دہم 245 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء ہو گئے۔( اور یہی انبیاء کی جماعتوں سے سلوک ہوتا ہے۔جب نبیوں کے ساتھ سلوک ہوتا ہے تو اُن کے ماننے والوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا ہے۔سارے دشمن ہو جاتے ہیں۔وہی لوگ جو تعریفیں کیا کرتے ہیں بلکہ اس بات کے قائل ہوتے ہیں کہ یہ نیک ہے، بڑا نیک ہے وہی دشمن ہوتے ہیں۔میں پہلے بھی ایک دفعہ حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کے بارے میں سنا چکا ہوں۔ایک دفعہ میں فیصل آباد کے ایک گاؤں میں گیا تو وہاں غیر احمدی بیٹھے تھے۔اُن کی بڑی تعریف کرنے لگے کہ ایسا نیک اور پارسا اور تقویٰ شعار اور صحیح کیس لینے والا اور سچ بولنے والا وکیل ہم نے نہیں دیکھا۔لیکن ایک نقص اُس میں ہے کہ وہ قادیانی ہے۔تو یہی پھر انہیں سب سے بڑا نقص نظر آتا ہے۔بہر حال یہ کہتے ہیں سب میرے دشمن ہو گئے ) اور طرح طرح کی تکلیف اور ایذا دہی کے درپے ہوئے۔کبھی پنچائت کرتے اور حقہ پانی بند کرتے اور کبھی مولویوں کو بلا بلا کر ہمارے خلاف وعظ کراتے اور رشتہ داروں اور دوستوں اور پبلک کو ہمارے خلاف برانگیختہ کرتے۔ایک دوکاندار شیر فروش ہمارے ساتھ تھا۔( یعنی دودھ بیچنے والا۔) اُس سے دودھ لینا بند کرادیا۔مزدوروں سے مزدوری کرانی بند کرادی اور ناطہ رشتہ بند کر دیئے اور لوگوں کو نصیحت کرتے کہ اگر کوئی احمدی کے مکان کے نیچے سے گزرے گا تو کافر ہو جائے گا۔قدرت خدا کی ، ( اللہ تعالیٰ بھی کس طرح بدلے لیتا ہے۔کہتے ہیں ) جو مولوی نصیحت کرتے تھے ، وہی میرے گھر پہ آ کر کھانا کھالیا کرتے تھے۔( یعنی عمل کچھ اور اور نصائح کچھ اور۔جب مولوی کا یہ عمل دیکھا تو لوگ ان باتوں کو دیکھ کر بہت پشیمان ہوئے۔پھر کہتے ہیں کہ ) بیعت کرنے کے بعد ہم نے نماز با جماعت چونکہ غیر احمدی امام کے پیچھے پڑھنی ترک کر دی تھی ، یا تو علیحدہ علیحدہ نماز پڑھ لیتے یا اپنے میں سے کسی کو امام بنا لیتے۔اس پر محلے والے تنازعہ اور جھگڑے کرنے لگے۔ہم نے رفع شر کے لئے نماز با جماعت مسجد میں اپنے امام کے پیچھے بھی پڑھنی ترک کر دی۔بلکہ اپنے مکان پر نماز باجماعت پڑھ لیتے۔کہتے ہیں جو میں نے کرائے پر لیا ہوا تھا۔یہ مکان بھی اس بات پر کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں ) مالک مکان نے خالی کرالیا۔پھر جب میں نے کرائے پر دوسرا مکان لے لیا اور نماز با جماعت وہاں پڑھنی شروع کر دی تو اس عرصہ میں کہتے ہیں کہ ہم نے تعمیر مسجد کے لئے ایک شخص مسمی رمضان سے جو احمدی تھا، تین دوکانات مع کچھ زمین کے خرید لیں اور اس دوران میں ڈاکٹر بشارت صاحب جو ایک احمدی تھے ، وہ بھی وہاں پر بطور پروبیشنل اسسٹنٹ سرجن ہو کر آ گئے۔جماعت کو ڈاکٹر صاحب موصوف کے آنے سے بڑی تقویت ہوگئی۔وہ بڑے جو شیلے تھے۔مغرب، عشاء،