خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 244

خطبات مسرور جلد دہم 244 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء کیونکہ اتفاق سے میں اُس علاقے میں تھا۔اور مولوی صاحب فرمانے لگے۔یہ عطاء اللہ شاہ بخاری بڑے عالم تھے، کہ اگر خدا تعالیٰ بھی مجھے آکر کہے کہ مرزا صاحب سچے ہیں تب بھی میں نہیں مانوں گا۔تو یہ تو ان کے ایمان کی حالت ہے۔پھر ایک روایت ہے۔علی محمد صاحب حضرت مولانا ابوالحسن صاحب کے حالات اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ” آپ بڑے پائے کے عالم تھے۔حضرت اقدس کا نام اور پیغام تمام ڈیرہ غازی خان کے ضلع میں آپ کے ذریعے پہنچا مخالفوں نے آپ کو بہت تکالیف دیں مگر آپ نہایت ثابت قدم رہے۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ - جلد 12 صفحہ 126) اور مخالفت کی کبھی کوئی پرواہ نہیں کی۔ہمیشہ تبلیغ کرتے رہے اور تکلیفیں اٹھاتے رہے۔حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بہت گھبرایا ہوا مخالفت کا ستایا ہوا قادیان پہنچا تو حضور نے فرمایا حافظ صاحب! آپ کیوں گھبرائے ہوئے ہیں؟ اُس وقت حضور کے لہجہ کلام سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ حضور کچھ میری مالی مدد کرنا چاہتے ہیں۔مگر میں اس خیال پر نہیں آیا تھا، ( یعنی کہ میں اس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا تھا ، ) مقصد تو یہ تھا کہ میرا قلب مطمئن ہو جائے۔دل مطمئن ہو جائے اور مخالفوں کی مخالفت سے دل نہ گھبرائے۔( کیونکہ نبی کی صحبت سے بہر حال انسان ایک قوت پاتا ہے۔اُس کی قوت قدسی سے اللہ تعالیٰ اس وقت سے قوت عطا فرماتا ہے۔بہر حال کہتے ہیں میں تو اپنے دل کو مضبوط کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں حاضر ہوا تھا۔) کہتے ہیں اور نہ مامورین کے پاس اس لئے جانا چاہئے کہ اُن سے مال لیا جائے بلکہ حسب توفیق اُن کی خدمت میں کچھ نہ کچھ بطور ہدیہ پیش کیا جائے۔حضور نے میرے لئے بہت دعا فرمائی اور بڑے تسلی بخش نصائح سے مطمئن کیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے دل میں حضور کی نسبت ایک منٹ بھی شک و شبہ صداقت کے متعلق پیدا نہیں ہوا۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ۔غیر مطبوعہ۔جلد 12 صفحہ 166-167) حضرت بابو عبدالرحمن صاحب فرماتے ہیں کہ میری انکساری اور غریب مزاجی کی وجہ سے میرے سب رشتہ دار اور دوست اور محلے والے اور شہر والے میرے سے خوش تھے اور تعریف کیا کرتے تھے مگر اب ایک دم بیعت کی خبر سن کر سب رشتے دار ( علاوہ جدی رشتہ داروں کے، کیونکہ جدی رشتہ دار بفضل خدا سب میرے ساتھ بیعت میں شامل تھے ) اور دوست اور محلہ دار اور رشتے دار درہم برہم ہو گئے اور دشمن