خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 246 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 246

خطبات مسر در جلد دہم 246 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء فجر کی نماز با جماعت دوکان میں پڑھ لیتے۔ڈاکٹر صاحب کو اپنا امام بنا لیتے۔دوکانات لپ سڑک تھیں۔بلا خوف و خطر دوکان میں آتے اور نماز کی جماعت کراتے۔ڈاکٹر صاحب ہر وقت تبلیغ میں مصروف رہتے۔اور جوش میں فرمایا کرتے تھے کہ میرا دل تو یوں چاہتا ہے کہ ایک کپڑے پر موٹے موٹے حروف میں یہ لکھ کر کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور اپنے سینے پر کوٹ میں لگا کر منادی کرتا پھروں کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ - جلد 12 صفحہ 246-248) حضرت شیخ عطاء اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ قادیان سے بیعت کی منظوری بذریعہ خطوط پہنچی اور ساتھ ہی کچھ لٹریچر سلسلے کا جن میں اخبار الحکم بھی تھا ہم لوگوں کو بھیجا گیا۔( یہ اخبار بھی منظوری کے ساتھ بھیجا گیا) جس کی ہم نے اشاعت کی۔لوگوں میں چرچا ہوا اور چرچے کے بعد مخالفت کا بازار شد ید طور پر گرم ہو گیا۔جا بجا جلسے ہونے لگے جن میں ہم لوگوں کو پکڑ پکڑ کر جبراً کھینچ گھسیٹ کر لے جایا جاتا اور تو بہ پر مجبور کیا جاتا۔( تو بہ کرو کہ مرزا صاحب بچے نہیں۔ہم اب مرید نہیں رہے۔خیر کہتے ہیں کہ ) بعض کمزور لوگ جو تھے پھسلنے لگے، (سختی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اُن میں استقامت نہیں تھی ) اور ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ حضرت حافظ صوفی تصور حسین صاحب اور شیخ سعد اللہ صاحب جو کہ براہ راست صوفی صاحب کے مرید تھے اور یہ عاجز باقی رہ گئے اور دوسرے سبھی لوگ دشمنوں کے دباؤ کی برداشت کرنے سے خائف ہو کر پھر گئے۔(اب تین آدمیوں کے علاوہ باقی سب احمدیت چھوڑ گئے۔سختیاں برداشت نہ کر سکے۔لیکن ان لوگوں نے سختیاں برداشت کیں۔استقامت دکھائی۔لکھتے ہیں کہ ) صوفی صاحب کو اللہ تعالیٰ استقامت بخشے۔وہ قادیان پہنچ کر نور نبوت سے حصہ پاچکے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص حکمت اور مصلحت نے میرے دل کو غیب سے منور فرمایا۔(صوفی صاحب تو قادیان جا کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ آئے تھے۔اُن کا ایمان مضبوط تھا، لیکن میں ابھی تک نہیں گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر بھی فضل فرما یا اور میرے دل کو روشن رکھا۔) اپنی قدرت نمائی سے منور فرمایا۔مجھے پر مخالفت کا کوئی اثر نہ ہوا۔نہ میں اُن کے دباؤ سے دبا۔بلکہ جتنا وہ دباتے اور ڈراتے ، میرا ایمان خدا کے فضل اور رحم سے زیادہ مستحکم ہوتا۔اُن کے مطالبہ تو بہ کو میں یہ کہتے ہوئے ٹھکراد یا کرتا کہ تو بہ کس بات سے آپ کرواتے ہیں؟“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد 12 صفحہ 312-313) پھر ایک روایت حضرت میاں عبدالمجید خان صاحب کی ہے۔فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ مخالفوں نے ایک بھاری جلسہ کر کے بہت شور مچایا اور ہنگامہ برپا کیا۔جس میں نشانہ عداوت و بغض