خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 243

خطبات مسرور جلد دہم 243 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012ء اتمام حجت کر دوں اور مہر رلد و نے بھی میری بات کی تائید کی کہ مولوی صاحب اس بچے کو نہیں سمجھا سکتے توکسی اور مرزائی کو کیا سمجھا ئیں گے۔(اگر یہ بچہ ہی نہیں آپ سے سمجھ سکتا تو اور کون سمجھے گا۔) چنانچہ اس بات کے کہنے سے اُس نے كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيْكُمْ والی حدیث پڑھنی شروع کر دی اور خود ہی واعظانہ طور پر اس کی تشریح شروع کر دی۔جب وہ بہت سا وقت لے چکا تو میں نے کہا کہ میری بات بھی سن لو کہ اس حدیث کے الفاظ سے ثابت ہے کہ یہ تاویل طلب ہے اور پھر میں نے اس پر جرح کرنی شروع کر دی۔میری جرح سے وہ تنگ پڑا۔( جو حدیث ہے وہ بخاری کی حدیث بھی ہے،مسلم میں بھی ہے، مسند احمد میں بھی ہے۔حضرت ابوہریرۃ سے روایت ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَاِمَامُكُمْ مِنْكُمْ۔اور بعض روایات میں فَامَّكُم مِنْكُمْ ہے۔یعنی تمہاری کیسی نازک حالت ہو گی جب ابن مریم یعنی مثیل مسیح مبعوث ہو گا جو تمہارا امام اور تم میں سے ہوگا۔اور جیسا کہ میں نے کہا دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ تم میں سے ہونے کی وجہ سے تمہاری امامت کے فرائض انجام دے گا۔اسی حدیث کو اُس مولوی نے پیش کیا لیکن میں نے اُس سے کہا کہ تم تشریح غلط کر رہے ہو) اور میں نے آیات مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ ، اور پھر اس کے بعد وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول والی آیات پیش کیں اور پھر فَاقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِح والی حدیث پڑھی۔( یہ بھی ایک لمبی حدیث ہے) اور اس کی تفسیر ذرا وضاحت سے بیان کی تو وہ بہت پریشان ہوا اور غیظ و غضب میں بھر گیا اور مہر رلد و کو مخاطب کر کے کہنے لگا کہ میں نے تم کو نہیں کہا تھا کہ اس نے سیدھا نہیں ہونا۔یہ مرزائی بڑے سخت اور بے ادب ہوتے ہیں اور میں کوئی بات اور بیان نہیں کروں گا۔چنانچہ مہر رلد و بھی بہت شرمندہ سا ہوا اور اُس کے چہرہ سے شرمندگی کے آثار ظاہر ہورہے تھے۔کیونکہ اس مولوی سے کوئی معقول جواب اور مجھے پوری تبلیغ نہ پہنچی۔خیر ہم اُٹھ کر چلے آئے اور میرے والد صاحب کے سامنے مہر رلدو نے بیان کیا کہ مولوی محمد علی ، عبدالرشید کو پورے طور پر سمجھا نہیں سکا اور مولوی صاحب غصے میں بھر گئے تھے۔بچہ ہے۔سمجھ جائے گا۔لیکن ان کا تو آج تک یہی حال ہے کہ مولویوں کے پاس جو علم ہے اس سے تو ہمارے جو بچے اللہ کے فضل سے علم رکھتے ہیں، اُن کا علم بھی ان مولویوں کے علم سے زیادہ ہے۔اور ان بچوں کا بھی منہ بند نہیں کر سکتے۔لیکن ڈھٹائی کا تو کوئی علاج نہیں ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد 12 صفحہ 32-33) ایک واقعہ مجھے یاد آ گیا۔مکرم ثاقب زیروی صاحب نے لکھا ہے۔چند دہائیاں پہلے عطاء اللہ شاہ بخاری ایک مولوی ہوتے تھے۔وہ ایک جگہ تقریر کر رہے تھے، کہتے ہیں کہ مجھے بھی کان میں آواز پڑگئی