خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 19
خطبات مسرور جلد دهم 19 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012ء پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” جب تک ما سوی اللہ کے کنکر اور سنگریزے زمینِ دل سے دور نہ کر لو اور اُسے آئینے کی طرح مصفا اور سرمہ کی طرح باریک نہ بنالو، صبر نہ کرو۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 348 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پس یہ چیز ہے کہ مسلسل کوشش کرتے چلے جاؤ اور اُس وقت تک ایک مومن کو نہیں بیٹھنا چاہئے، صبر نہیں کرنا چاہئے جب تک اپنی یہ حالت نہ کر لے۔پس آجکل کے فساد سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کے لئے خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان براہ راست کسی فساد میں یا شر میں ملوث نہیں بھی ہوتا لیکن پھر بھی ماحول کے زیر اثر وہ فساد اور شر اُس پر بھی اثر انداز ہور ہے ہوتے ہیں۔وہ اُن کا حصہ بن رہا ہوتا ہے اور کسی نہ کسی رنگ میں اُس میں ملوث ہو جاتا ہے۔اور اس کی وجہ سے نہ صرف حقوق کی ادائیگی نہیں ہو رہی ہوتی بلکہ انسان لاشعوری طور پر ظلم میں بھی حصہ دار بن جاتا ہے۔اس کی موٹی مثال تو آجکل احمدیوں کے ساتھ جو بعض ملکوں میں ہو رہا ہے اُس کی ہے۔بعض لوگ جو احمدیت کے بارے میں کچھ جانتے بھی نہیں وہ بھی مخالفین احمدیت کی وجہ سے اور خاص طور پر پاکستان میں ملکی قانون کی وجہ سے بے شمار جگہوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں۔جہاں نازیبا الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں وہاں دستخط کرتے ہیں۔پس ایسے لوگوں کی عبادتیں لاشعوری طور پر خدا تعالیٰ کے بجائے ان دنیا داروں کے قرب حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔بظاہر وہ نمازیں ادا کر رہے ہیں لیکن دل میں نہ سہی لیکن لاشعوری طور پر وہ اُن نیکیوں کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔اور یہ چیز کہ جب دین کو دنیا کے ساتھ ملالیا جائے اور دین میں جب بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو جائے تو پھر حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی پامالی ہوتی ہے۔مذاہب کی تاریخ میں ہمیشہ اسی طرح سے ہوتا آیا ہے کہ ایک وقت میں آکے دین میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔اور اسی لئے خدا تعالیٰ نے قوموں میں انبیاء کا سلسلہ جاری رکھا ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب دین اپنی اصل سے ہٹ جائے ، اُس کی روح ختم ہونی شروع ہو جائے تو پھر قوموں کو وارننگ کے لئے ، اُن کو صحیح دین کی طرف واپس لانے کے لئے ، عبادت کی روح قائم کرنے کے لئے، انبیاء براہ راست خدا تعالیٰ سے رہنمائی پا کر اپنا کردار ادا کریں۔اور جب خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا تو جہاں آپ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حقیقی اسلوب اور طریقے مسلمانوں کو سکھائے گئے ، ماننے والوں کو سکھائے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو انسانِ کامل تھے