خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 18
خطبات مسرور جلد دہم 18 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012ء کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے ان صفات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرنے کی ضرورت بھی ہے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا حق ادا کرنے کے لئے اپنی طرف سے بھر پور کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔جب یہ حالت ہوگی تو ایک انسان عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والا بن سکتا ہے ، ایک مومن بن سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ ’ایک عجیب بات سوال مقدر کے جواب کے طور پر بیان کی گئی ہے یعنی اس قدر تفاصیل جو بیان کی جاتی ہیں۔ان کا خلاصہ اور مغز کیا ہے؟ ” ( بے انتہا تفاسیر بیان کی گئی ہیں تفصیلیں بیان کی گئی ہیں، قرآن شریف میں احکامات ہیں، اُن کا خلاصہ اور مغز کیا ہے؟ فرمایا کہ ( أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا الله ( ہود : 3 ) خدا تعالیٰ کے سوا ہرگز ہر گز کسی کی پرستش نہ کرو۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے۔“ یہی اُس کی پیدائش کا بنیادی مقصد ہے۔جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ الذّاریات : 57) عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت ، کبھی کو ڈور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے، جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔(فصل لگانے سے پہلے ) عرب کہتے ہیں مَوْرٌ مُعبد جیسے سُرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں۔اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر ، پتھر، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی رُوح ہواس کا نام عبادت ہے؛ چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے‘ ( فرمایا کہ اگر یہ درستی اور صفائی شیشے کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے۔اور اگر زمین کی کی جاوے، تو اس میں انواع واقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 346-347 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ ہے عبادت کہ اپنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی خاطر کر لو۔اس طرح زمین ہموار کر وجس طرح ایک زمیندار فصل لگانے سے پہلے کرتا ہے۔اس طرح اپنے دل کو چھکا ؤ جس طرح ایک صاف شفاف شیشہ چمک رہا ہوتا ہے جس میں اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔جب ایسی صورت ہوگی تو جس طرح زمیندار کی اچھی طرح تیار کی گئی زمین میں پھل لگتے ہیں اور اچھے پھل لگتے ہیں، اُسی طرح دل میں بھی ، انسان کی روح میں بھی اچھے پھل لگیں گے۔