خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 20
خطبات مسرور جلد دہم 20 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012ء جن میں خدا تعالیٰ کی صفات جس حد تک ایک بشر میں کا ملیت کے ساتھ پیدا ہوسکتی ہیں، پیدا ہو گئیں تو پھر ہمیں حکم فرمایا کہ یہ رسول تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔اس کی پیروی کرو گے تو مجھ تک پہنچو گے۔یہ وہ رسول ہے جس کی نمازیں اور نوافل ہی عبادت نہیں تھے بلکہ ہر قول وفعل عبادت تھا۔پس یہ عبادت کے معیار حاصل کرو۔گودین اب تا قیامت اس پیارے نبی کی لائی ہوئی شریعت سے مکمل ہو گیا۔لیکن اس کے با وجود خدا تعالیٰ نے خود بھی فرما دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہلوایا کہ جس طرح ہمیشہ سے یہ طریق چلا آیا ہے کہ ایک عرصہ گزرنے کے بعد دین میں اپنی بنیاد سے دوری پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح مسلمانوں میں بھی حالتِ فساد اور دین سے دوری پیدا ہوگی۔باوجود اس کے کہ آپ آخری نبی ہیں۔کوئی نبی آپ کے بعد شریعت لے کر نہیں آسکتا۔آپ کی کتاب آخری شرعی کتاب ہے۔اُس کے باوجود فر ما یا کہ یہ حالت پیدا ہوگی کہ دین سے دوری پیدا ہو جائے گی اور جب یہ دوری اپنی انتہا کو پہنچے گی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں آپ کا عاشق صادق دین کو دنیا پر قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے گا اور عبادت کی حقیقت بیان کرے گا۔اور وہ یہ سب کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام صادق ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہی کرے گا۔لیکن افسوس ہے کہ ابھی تک مسلمانوں کی اکثریت اس بات کو نہیں سمجھ رہی۔اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی حقیقی عبادت کی طرف بلا رہا ہے اُس سے دوررہ کر اپنے اپنے طریق پر مسلمانوں کا ہر فرقہ جو ہے وہ اپنا اپنا طریق اپنائے ہوئے ہے۔جس سے دنیا میں، خاص طور پر مسلمان دنیا میں ، سوائے فساد کے اور کچھ پیدا نہیں ہورہا۔اور یہی نہیں بلکہ ایسے لوگ اسلام کی بدنامی کا بھی موجب بن رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے آج سے چودہ سو سال پہلے نذیر تھے، آج بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت کے آخر میں فرمایا کہ: انَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ - میں تمہارے لئے اُس کی طرف سے ایک نذیر اور بشیر ہوں۔پس آپ کا زمانہ تا قیامت ہے۔آپ تا قیامت نذیر و بشیر ہیں۔اور آج بھی اپنوں کو بھی اور غیروں کو بھی ہوشیار کرنے والے ہیں۔نذیر کا مطلب صرف خوف دلانا نہیں ہے بلکہ اکثر خوف دلانا نذیر کا مطلب نہیں ہوتا بلکہ ہوشیار کرنا ہے تا کہ ہوشیار ہو جاؤ۔ان خرابیوں سے بچو۔برائیوں سے بچو۔آپ یہی فرماتے ہیں کہ میں نذیر ہوں۔اسلامی تعلیم کی حقیقت سے دور ہٹ کر دین و دنیا کے نقصانات کا مورد بنو گے۔قطع نظر اس کے کہ تم کلمہ پڑھنے والے ہو، مجھ پر ایمان لانے والے ہولیکن اگر دین پر پوری طرح کار بند نہیں تو پھر جو نقصانات ممکن ہو سکتے ہیں وہ تمہیں بھی ہوں گے۔اور پھر یہ بھی ہے کہ اگر اس حقیقت کو سمجھ لو گے کہ آخرین میں مبعوث ہونے والا بھی قرآنی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ