خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 199 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 199

خطبات مسرور جلد دہم 199 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء اسی طرح قرآنِ کریم کی آیات کی منسوخی کا جہاں تک سوال ہے عمو ماً اب اس میں ناسخ و منسوخ کا ذکر نہیں کیا جاتا ، وہ شدت نہیں پائی جاتی جو پہلے تھی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 318 خطبہ جمعہ 22 مئی 1936 ) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بھی ثابت فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد بعض عقائد پر دوسرے مسلمان جو بڑی شدت رکھتے تھے ، وہ بھی اب دفاعی حالت میں آگئے ہیں، وہ شدت کم ہو گئی ہے، یا مانتے ہیں یا خاموش ہو جاتے ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 329 خطبہ جمعہ 29 مئی 1936 ) اور یہی بات آج تک بھی ہے۔بلکہ اب تو بعض علماء اور سکالرجن میں عرب بھی شامل ہیں، جہادی تنظیموں اور شدت پسندوں کے نظریہ جہاد کے خلاف کہنے لگ گئے ہیں۔بلکہ جہاد کے بارے میں ہی کہنے لگ گئے ہیں کہ آجکل کا یہ جہاد جو ہے یہ غلط ہے۔پس جن کو وہ اپنے بنیادی عقائد کہتے تھے، ان نظریات میں تبدیلی ، اُن عقائد میں تبدیلی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کے بعد آئی ہے اور ان میں جو پڑھے لکھے لوگ کہلاتے ہیں، جن کا دنیا سے واسطہ بھی ہے، رابطہ بھی ہے، وہ یہ کہنے لگ گئے ہیں، مثلاً جہاد وغیرہ کے بارے میں کہ یہ غلط ہے۔یہ تبدیلی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد اور آپ کی جہاد کی صحیح تعریف کے بعد پیدا ہوئی ہے۔چاہے وہ احمدیت کو مانیں یا نہ مانیں۔یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت احمدیہ کے جہاں تک عقائد کا سوال ہے ، اس کو غیروں میں سے بھی ایک بڑا طبقہ جو ہے وہ ماننے پر مجبور ہے۔اب آجا کے زیادہ بحث اس بات پر ٹھہر گئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام نبی کا ہے یا نہیں ہے؟ یہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن طے ہو جائے گا۔اسی طرح جو ہمارا عمومی مؤقف ہے، تعلیم ہے، عقائد ہیں اُس کو سمجھنا نہیں چاہتے اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اُن کے پاس دلیل بھی کوئی نہیں ہے۔ہمارے عقائد کے تعلق میں بحث پر جب لا جواب ہو جاتے ہیں تو مار دھاڑ اور قتل و غارت پر آجاتے ہیں اور یہی کچھ آجکل اکثر مسلمان فرقوں کی طرف سے احمدیت کے خلاف ہو رہا ہے اور خاص طور پر پاکستان میں یا بعض جگہ ہندوستان میں۔اور یہ پھر اس بات کی دلیل ہے کہ اُن کے پاس ہمارے عقائد کو غلط ثابت کرنے کے لئے نہ ہی کوئی قرآنی دلیل ہے اور نہ ہی کوئی عقلی دلیل ہے۔جب گھیرے جاتے ہیں، قابو میں آجاتے ہیں تو ماردھاڑ پر اتر آتے ہیں۔پس عقیدے کے لحاظ سے دلائل و براہین کی رو سے احمدی اُس مقام پر ہیں جہاں اُن کا کوئی