خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 198 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 198

خطبات مسر در جلد دہم 198 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء زندگی اور ان کے دوبارہ آنے کا ذکر نہیں بلکہ ان کو صرف فوت شدہ کہہ کر پھر چپ ہو گیا۔لہذا اُن کا زندہ بجسده العصری ہونا اور پھر دوبارہ کسی وقت دنیا میں آنا نہ صرف اپنے ہی الہام کی رُو سے خلاف واقعہ سمجھتا ہوں بلکہ اس خیال حیات مسیح کو نصوص بینہ قطعیہ یقینیہ قرآن کریم کی رو سے لغو اور باطل جانتا ہوں۔“ آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 315) یعنی قرآن کریم کی جو بڑی یقینی اور قطعی اور کھلی کھلی آیات ہیں ، اُن کی رُو سے حضرت عیسی علیہ الصلواۃ السلام کو فوت شدہ سمجھتا ہوں اور اُن کی حیات کے خیال کو لغو اور باطل سمجھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ اعتقادی لحاظ سے تم میں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ارکانِ اسلام کو ماننے کا اُن کا بھی دعوی ہے، تمہارا بھی ہے۔ایمان کے جتنے رکن ہیں، جس طرح ایک احمدی اُن پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتا ہے، دوسرے بھی منہ سے یہی دعوی کرتے ہیں ، بلکہ یہاں تک ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد ایک طبقہ حضرت عیسی کی وفات پر یقین کرنے لگ گیا ہے۔پھر خونی مہدی کا جو نظر یہ تھا کہ مہدی آئے گا اور قتل کرے گا اور اصلاح کرے گا، اُس کے بارے میں بھی نظریات بدل گئے ہیں۔گزشتہ جمعہ سے پہلا جمعہ جو گزرا ہے، جس میں میں نے صحابہ کے واقعات سنائے تھے۔اُن میں ایک صحابی نے جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے پوچھا کہ آپ نے خونی مہدی کا انکار کیا ہے اور لوگوں کو آپ کچھ کہتے ہیں، ویسے سنا ہے انکار کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب یہ کہتے ہیں کہ خونی مہدی کوئی نہیں آئے گا تو اس پر آپ اعتراض کرتے ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ جاؤ تم نے مرزا صاحب کی بیعت کرنی ہے تو کرو۔اس چکر میں نہ پڑو۔جو میرا نظریہ تھا یا ہے۔تو وہ ڈھٹائی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف چپ کھڑے ہوں گے تو یہی کہیں گے کہ خونی مہدی نے بھی آنا ہے اور مسیح نے بھی آنا ہے لیکن ویسے کئی ایسے ہیں جن کے نظریات بدل چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے سے مسلمانوں میں بعض عقائد میں بھی درستی پیدا ہوئی ہے بلکہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آج سے چھہتر سال پہلے اعتقادی اور عملی اصلاح کے موضوع پر ، ایک خطبہ میں نہیں بلکہ اس موضوع پر خطبات کا ایک سلسلہ جاری کیا جس میں کئی خطبے تھے۔اُن میں آپ نے یہاں تک فرمایا کہ ہندوستان میں پڑھے لکھے لوگوں میں سے شاید دس میں سے ایک بھی نہ ملے جو حیات مسیح کا قائل ہو۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 317 خطبہ جمعہ 22 مئی 1936 )