خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 200 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 200

خطبات مسرور جلد دہم 200 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء مقابلہ نہیں کر سکتا۔جو کم علم احمدی ہیں اُن کو بھی چاہئے کہ اپنے علم میں اس لحاظ سے پختگی پیدا کر یں۔آجکل تو ایم ٹی اے پر بعض پروگرام مثلاً راہ ہدی وغیرہ اسی لئے دیئے جارہے ہیں کہ ان سے زیادہ سے زیادہ سیکھیں اور کسی قسم کے احساس کمزوری اور کمتری کا شکار نہ ہوں، اُس میں مبتلا نہ ہوں۔بہر حال جماعت احمدیہ کی اکثریت بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اِلَّا مَا شَاءَ اللہ سب ہی اپنے عقیدے میں پختہ ہیں۔اگر کوئی کمزور بھی ہے تو وہ یادر کھے کہ جو عقیدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے، وہی حقیقی اسلام ہے اور غیروں میں اس کو کسی بھی دلیل کے ساتھ ر ڈ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔پس چند ایک جو کمزور ہیں وہ بھی اپنے اندر مضبوطی پیدا کریں۔کسی قسم کی کمزوری دکھانے کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عقیدے اور علمی لحاظ سے ہمیں نہایت ٹھوس اور مدلل لٹریچر عطا فرمایا ہے۔اسی طرح عملی باتوں کی طرف بھی بہت زیادہ توجہ دلائی ہے۔- جہاں تک عقیدے اور علمی لٹریچر کا تعلق ہے جس کا اثر جیسا کہ میں نے کہا احمدی نہ ہونے کے باوجود بھی غیروں پر ہے لیکن صرف عقیدے کی اصلاح کافی نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اعمال کی اصلاح کے لئے بھی آئے تھے۔جب تک ہمارے عمل کی بھی اصلاح نہ ہو اُس وقت تک عقیدے کی اصلاح کا کوئی فائدہ نہیں۔کیونکہ عمل ہی ہے جو پھر غیروں کو اس طرف مائل کرتا ہے کہ وہ جماعت میں بھی شامل ہوں ، ہماری باتیں بھی سنیں ، یا کم از کم خاموش رہیں۔نیک عمل اور پاک تبدیلیاں ایک خاموش تبلیغ ہیں۔بعض قریب آئے ہوئے اور بیعت کے لئے تیار صرف اس لئے دور ہو جاتے ہیں کہ کسی احمدی کا عمل اُن کے لئے ٹھوکر کا باعث بن گیا۔پس اس زمانے میں جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت سے دُور ہو رہے ہیں ، ہمیں اپنے عقیدے کے ساتھ اپنے اعمال کی حفاظت کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے اور شدت سے ضرورت ہے۔عقیدے کے لحاظ سے تو ہم یقیناً جنگ جیتے ہوئے ہیں لیکن اگر عقیدے کے مطابق عمل نہ ہوں اور جو تعلیم دی گئی ہے اُس کے مطابق نہ چلیں، اُس کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش نہ ہو تو آہستہ آہستہ صرف نام رہ جاتا ہے۔جیسا کہ مسلمانوں کی اکثریت میں ہم دیکھتے ہیں کہ غلط قسم کے کاموں میں ملوث ہیں۔نمازوں کی اگر پڑھتے بھی ہیں تو صرف خانہ پری ہے۔اکثریت تو ایسی ہے جس کو نمازوں کی پرواہ بھی نہیں ہے۔جھوٹ عام ہے۔اب تو بے حیائی بھی بلا جھجک اور کھلے عام ہے۔گزشتہ دنوں ایک غیر از جماعت دوست ملے۔کہنے لگے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ شدت پسند اور اسلام کے دعویدار جو مختلف جگہوں پر