خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 193

خطبات مسرور جلد دہم وو 193 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء زیادہ دیکھنے لگ گئے ہیں، لیکن بہر حال جناب حمید نظامی صاحب جو اس کے بانی تھے وہ لکھتے ہیں کہ : حد بندی کمیشن کا اجلاس ختم ہوا۔کوئی چار دن سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے مسلمانوں کی طرف سے نہایت مدلل، نہایت فاضلانہ اور نہایت معقول بحث کی۔کامیابی بخشا خدا کے ہاتھ میں ہے۔مگر جس خوبی اور قابلیت کے ساتھ سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے مسلمانوں کا کیس پیش کیا اس سے مسلمانوں کو اتنا اطمینان ضرور ہو گیا کہ اُن کی طرف سے حق و انصاف کی بات نہایت مناسب اور احسن طریقے سے ارباب اختیار تک پہنچادی گئی ہے۔سر ظفر اللہ خان صاحب کو کیس کی تیاری کے لئے بہت کم وقت ملا۔مگر اپنے خلوص اور قابلیت کے باعث انہوں نے اپنا فرض بڑی خوبی کے ساتھ ادا کیا۔ہمیں یقین ہے کہ پنجاب کے سارے مسلمان بلالحاظ عقیدہ، اُن کے اس کام کے معترف اور شکر گزار ہوں گے۔“ (نوائے وقت یکم اگست 1947ء بحوالہ تعمیر و ترقی پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مثالی کردار صفحہ 104-105) پھر جب 53ء کے فسادات ہوئے ہیں۔تحقیقاتی عدالت میں جماعت کا معاملہ پیش ہوا۔جسٹس منیر بھی جج تھے، لکھتے ہیں کہ احمدیوں کے خلاف معاندانہ اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں کہ باؤنڈری کمیشن کے فیصلے میں ضلع گورداسپور اس لئے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا کہ احمدیوں نے ایک خاص رویہ اختیار کیا اور چوہدری ظفر اللہ خان نے جنہیں قائد اعظم نے اس کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا کیس پیش کرنے پر معمور کیا تھا، خاص قسم کے دلائل پیش کئے لیکن عدالت ہذا کا صدر ( یعنی جسٹس منیر ) جو اس کمیشن کا ممبر تھا، (اُس وقت باؤنڈری کمیشن میں یا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ساتھ ) اس بہادرانہ جدو جہید پر تشکر وامتنان کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو چوہدری ظفر اللہ خان نے گورداسپور کے معاملے میں کی تھی۔یہ حقیقت باؤنڈری کمیشن کے حکام کے کاغذات میں ظاہر و باہر ہے اور جس شخص کو اس مصلحت سے دلچپسی ہو وہ شوق سے اس ریکارڈ کا معائنہ کر سکتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان نے مسلمانوں کے لئے نہایت بے غرضانہ خدمات انجام دیں، ان کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالتی تحقیقات میں ان کا ذکر جس انداز میں کیا ہے وہ شرمناک ناشکرے پن کا ثبوت ہے۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت المعروف منیر انکوائری رپورٹ‘ صفحہ 305 جدید ایڈیشن) اور یہ شرمناک ناشکر اپن اب اکثر سیاسی جماعتوں میں بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے، اور پھر جو ملک کی حالت ہے وہ بھی ظاہر وباہر ہے۔اس لئے آج کے اس دن کے حوالے سے پاکستانی اپنے ملک پاکستان کے لئے بھی بہت دعائیں کریں، اللہ تعالیٰ اس کو اس تباہی سے بچائے جس کی طرف یہ بڑھتا چلا جار ہا ہے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 13 اپریل تا 19 اپریل 2012 جلد 19 شماره 15 صفحہ 5 تا 10 )