خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 192
خطبات مسرور جلد و هم 192 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء تا کہ اُن کے حق ادا ہو سکیں۔آخر قائد اعظم ہندوستان واپس گئے اور مسلمانوں کی خدمت پر کمر بستہ ہونے کی حامی بھر لی اور بے ساختہ انہوں نے یہ کہا کہ : "The eloquent persuasion of the Imam left me no escape۔" ( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 6 صفحہ 102 جدید ایڈیشن) یعنی امام مسجد لنڈن کی جو فصیح و بلیغ تلقین اور ترغیب تھی ، اس نے بھی میرے لئے کوئی فرار کا رستہ نہیں چھوڑا۔پھر مشہور صحافی جناب محمد شفیع جو میم شین کے نام سے مشہور ہیں، لکھتے ہیں کہ: یہ مسٹر لیاقت علی خان اور مولانا عبد الرحیم در دامام لنڈن ہی تھے جنہوں نے مسٹر محمد علی جناح کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنا ارادہ بدلیں اور وطن واپس آکر قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کریں۔اس کے نتیجہ میں مسٹر جناح 1934ء میں ہندوستان واپس آگئے اور مرکزی اسمبلی کے انتخاب میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔پاکستان ٹائمز 11 ستمبر 1981ء میں یہ حوالہ درج ہے۔( پاکستان ٹائمز 11 ستمبر 1981ء سپلیمنٹ 1 کالم نمبر 1 حوالہ تعمیر ترقی پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مثالی کردار صفحہ 8) پھر جو اشد مخالفین تھے انہوں نے بھی ایک اعتراف کیا۔چنانچہ مجلس احرار نے مسلم لیگ اور مرزائیوں کی آنکھ مچولی پر مختصر تبصرہ “ کے عنوان سے ایک کتابچہ 1946ء میں شائع کیا جس میں صاف طور پر لکھا کہ مسٹر جناح نے کوئٹہ میں تقریر کی اور مرزا محمود کی مسلم لیگ کی حمایت کرنے کی جو پالیسی تھی اس کو سراہا۔اس کے بعد جب سنٹرل اسمبلی کے الیکشن شروع ہوئے تو تمام مرزائیوں نے مسلم لیگ کو ووٹ دیئے۔(مسلم لیگ اور مرزائیوں کی آنکھ مچولی پر مختصر تبصرہ صفحہ 18 بحوالہ تعمیر و ترقی پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مثالی کردار صفحہ 10-11) مشہور اہلحدیث عالم مولوی میر ابراہیم سیالکوئی اپنی کتاب ”پیغام ہدایت و تائید پاکستان مسلم لیگ“ میں لکھتے ہیں کہ احمدیوں کا اس اسلامی جھنڈے کے نیچے آ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے (پیغام ہدایت و تائید پاکستان مسلم لیگ صفحه 112 مطبوعہ 1946) یعنی ان کے نزدیک احمدی مسلمان بھی ہیں اور انہوں نے پاکستان میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔پھر باؤنڈری کمیشن کے سامنے جو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی خدمات ہیں اُن کو حمید نظامی صاحب نوائے وقت کے بانی تھے، بڑی مدحت بھرے الفاظ میں لکھتے ہیں۔نوائے وقت آجکل تو جماعت کے خلاف بہت کچھ لکھتا رہتا ہے، ان کی پالیسی بدل گئی ہے کیونکہ یہ لوگ دنیاوی فائدہ