خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 194
خطبات مسرور جلد دہم 194 13 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة اسم الخامس ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012 ء بمطابق 30 امان 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - مورڈن - لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں شرائط بیعت کے حوالے سے میں نے افراد جماعت کو ایک احمدی کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی تھی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مختلف اقتباسات سے ہی ہر شرط کی وضاحت بیان ہوئی تھی۔ان شرائط کو پڑھ کر اور آپ علیہ السلام کی کتب اور ملفوظات کو پڑھ کر، سُن کر اور ان پر غور کر کے ہی پتہ چلتا ہے کہ آپ ہمارے اندر اسلام کی حقیقی تعلیم داخل کر کے، ہماری اعتقادی اور عملی اصلاح کر کے ہم میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنا چاہتے تھے۔کیونکہ اس کے بغیر وہ عظیم مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا جو آپ کی بعثت کا مقصد تھا، جو زمانے کی اہم ضرورت تھی اور ہے۔جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوسکتا ہے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اس سلسلہ سے خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے اور اُس نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ تقوی کم ہو گیا ہے۔بعض تو کھلے طور پر بے حیائیوں میں گرفتار ہیں اور فسق و فجور کی زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایک قسم کی ناپاکی کی ملونی اپنے اعمال کے ساتھ رکھتے ہیں۔مگر انہیں نہیں معلوم کہ اگر اچھے کھانے میں تھوڑا ساز ہر پڑ جاوے تو وہ سارا زہریلا ہو جاتا ہے۔اور بعض ایسے ہیں جو چھوٹے چھوٹے (گناہ) ریا کاری وغیرہ جن کی شاخیں باریک ہوتی ہیں اُن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔“ اگر چہ ظاہری طور پر ہر انسان سمجھتا ہے کہ یہ بڑے دیندار ہیں لیکن عجب اور ریا اور باریک بار یک معاصی میں مبتلا ہیں جو کہ عارفانہ خوردبین سے نظر آتے ہیں۔“