خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 167

خطبات مسرور جلد دہم 167 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء مکرم میاں شرافت احمد صاحب اپنے والد حضرت مولوی جلال الدین صاحب مرحوم کے حالات بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ والد صاحب کو خدمت دین کا بہت شوق تھا اور اس پیرانہ سالی میں بھی ، بڑھاپے میں بھی آپ جوانوں سے بازی لے جاتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے زمانے میں، 1934ء میں جہاں خطبہ جمعہ میں آپ کی وفات کو شہادت کی موت قرار دیا ہے، وہاں آپ نے اعتراف فرمایا کہ مولوی صاحب جوانوں سے بڑھ کر کام کرنے والے تھے۔حضور نے فرمایا کہ تین آدمی میں نے دیکھے ہیں جو کہ تبلیغ میں دیوانوں کی طرح کام کرتے تھے ، ایک حافظ روشن علی صاحب مرحوم، دوسرے یہ مولوی صاحب اور تیسرے مولوی غلام رسول صاحب را جیکی۔یہ تینوں نہ دن نہ رات دیکھتے ہیں تبلیغ میں ہی لگے رہتے ہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 274 روایت حضرت میاں شرافت احمد صاحب) ย پھر میاں شرافت احمد صاحب ہی اپنے والد صاحب مولوی جلال الدین صاحب مرحوم کے حالات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ والد صاحب تبلیغ سلسلہ کے متعلق اپنا ایک رؤیا بیان فرمایا کرتے تھے۔وہ میں لکھتا ہوں۔(والد صاحب) کہتے ہیں ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے گھر میں یا گاؤں میں یہ مجھے یاد نہیں رہا تشریف لائے ہیں اور مجھ سے قلم مانگتے ہیں۔اُس کے بعد میری نکھ کھل گئی۔کچھ مدت کے بعد میں قادیان میں حاضر ہوا اور اپنے ساتھ دور بجے کھدرسفید دھوبی سے دھلا ہوا، اُس کے پانچ گز کے دوٹکڑے ( یعنی ریجے شاید پنجابی میں لمبی چادروں کے ٹکڑوں کو کہتے ہیں ) لے کے رکھے اور دو ہولڈر مختلف رنگ کے لئے اور حضور کی خدمت میں پیش کئے اور حضور سے قلم مانگنے کی تعبیر دریافت کی۔حضور نے از راہ ہمدردی میرے حقیر نذرانے کو قبول فرماتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے خواب کو پورا کر دیا۔قلم سے مراد یہ ہے کہ آپ خدمت دین کریں، تحریری بھی اور تقریری بھی۔والد صاحب بیان کرتے تھے کہ اس کے بعد میں نے اپنے سارے زور سے تبلیغ شروع کر دی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کی کوششیں بار آور ہوئیں۔آپ کے دونوں بھائی بیعت میں شامل ہو گئے جن میں سے ایک اپنے علاقے میں مانا ہوا عالم تھا ( مولوی علی محمد صاحب سکنہ زیرہ ضلع فیروز پور۔) جب مخالفوں کو معلوم ہوا کہ یہ دونوں بھائی مولوی جلال الدین صاحب اور مولوی علی محمد صاحب احمدی ہو گئے ہیں تو اُن کی کمریں ٹوٹ گئیں۔ان کے احمدی ہونے پر محمدعلی بو ہریہ اور محمود شاہ واعظ یہ دونوں زیرہ سے روتے ہوئے چلے گئے۔یہ غیر احمدی تھے اور فیروز پور تک ایک دوسرے کے گلے میں ہاتھ ڈال کر ایسے روتے تھے جیسے