خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 166
خطبات مسر در جلد دہم 166 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء آئے گا اور اس کے متعلق جو حدیثیں ہیں وہ ضعیف ہیں، کمزور ہیں، ظنی ہیں اور لوگوں کو آپ یہ کہتے ہیں کہ مہدی آئے گا۔آپ دو طرف کیوں بیان دے رہے ہیں۔ان کو اپنا اصلی عقیدہ کیوں نہیں بتاتے۔لیکن وہ میری بات کا کوئی جواب نہیں دیتا تھا اور ہر دفعہ یہی کہتا تھا کہ جاؤ مرزائی ہو جاؤ تمہیں اس سے کیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحه 29 تا 31 روایت حضرت شیخ عبدالرشید صاحب) حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب ولد شیخ مسیتا صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد مبارک میں ہی تشریف فرما ہوئے تو ایک نئے دوست نے عرض کی کہ حضور ہمارے گاؤں میں ایک مولوی صاحب آئے اور رات کو کو ٹھے پر کھڑا کر کے غیر احمدیوں نے اُن سے وعظ کرایا۔ہم بھی گئے تو اُس مولوی نے لا نَبِيَّ بَعْدِي والی حدیث پڑھ کر اُس میں لوگوں کو خوب جوش دلایا اور بار بار کہا دیکھولو گو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور مرزا صاحب قادیان والے کہتے ہیں کہ میں نبی ہوں اور رسول ہوں۔پھر پنجابی میں کہنے لگا و شو اسی کی کریئے تو کہتے ہیں کس طرح مرزا صاحب کو نبی رسول مان لیں؟ کہتے ہیں میں کھڑا ہو گیا اور اُس سے کہا مولوی صاحب ! آپ یہ بتائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے بارے میں بھی یہ فرمایا ہے کہ اس کے بعد کوئی مسجد نہیں ہوگی۔اس کے کیا معنی کریں گے۔جو معنی آپ اس مسجد والی حدیث کے کریں گے وہی معنی ہم لا نبت والی حدیث کے کریں گے اور آپ کو یہ بتلا دیں گے کہ جو نبی آپ کی لائی ہوئی شریعت کو منسوخ کرے گا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو منسوخ کرے گا، وہ نبی نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت تو آخری شریعت ہے۔اس لئے اس کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں آسکتا۔خیر وہ مولوی صاحب کہتے ہیں اس بات پر بھونچکا سا ہو گیا اور گالیاں دینے لگ گیا۔جب جواب نہ ہو تو یہی ہوتا ہے۔پھر میں نے کہا مولوی صاحب! آپ کی گالیوں کا جواب ہم نہیں دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دوست کی یہ باتیں سن کر بہت خوش ہوئے اور بڑے مسکرائے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 90-91 روایت حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب) آجکل بھی زیادہ تر یہی ایشو اٹھایا جا رہا ہے۔لوگوں کے دماغوں کو جو زہریلا کیا جاتا ہے تو اسی بات سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تو کوئی نبی نہیں آسکتا اور یہ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں۔احمدیوں کے خلاف پاکستان میں اصل جو مخالفت ہے وہ اسی ایشو کو لے کر اب زیادہ بھڑکائی جارہی ہے۔