خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 168

خطبات مسرور جلد دهم 168 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء بہت قریبی رشتہ دار فوت ہو گیا ہو۔پھر مولوی صاحب کی کوشش سے زیرہ ضلع فیروز پور، کھر پڑ لدھیکے، رتنے والا اور للیانی وغیرہ مقامات پر مخلص جماعتیں پیدا ہوئیں۔الحمدُ للهِ۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 274 تا 276 روایت حضرت میاں شرافت احمد صاحب) پھر میاں شرافت احمد صاحب ہی کی مولوی جلال الدین صاحب کے بارے میں ایک روایت ہے کہ والد صاحب 1924ء میں ملکانہ میں تبلیغ کی خاطر تشریف لے گئے اور وہاں بنجاروں اور ملکانوں میں تبلیغ اسلام کرتے رہے۔ملکانوں اور بنجاروں کے علاوہ آپ نے معززین علاقہ سے بھی تعلقات پیدا کر لئے۔حکام وقت سے بھی اپنے پھٹے پرانے کپڑوں میں جا ملتے۔وہ لوگ آپ کو اس رنگ میں دیکھ کر کہ ستر انی سال کا بوڑھا اپنی گھڑی اُٹھائے پھر رہا ہے اور دن رات اس دھن میں ہے کہ لوگ مسلمان بن جائیں اور احمدیت قبول کر لیں ، بہت اچھا اثر لیتے تھے۔آپ اُن سے کافی چندہ وصول کرتے تھے۔وہ خوشی سے دیتے تھے کہ یہ جماعت کام کرنے والی ہے۔اس علاقے میں بھی آپ کی سعی اور کوشش سے بہت سے لوگ سلسلہ حقہ میں داخل ہو گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 278-279 روایت حضرت میاں شرافت احمد صاحب) حافظ غلام رسول وزیر آبادی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میاں بشیر احمد صاحب کے مکان میں جس کے دروازے دونوں مسقف گلیوں (چھتی ہوئی گلیاں تھیں) کے نیچے موجود ہیں ،تشریف فرما ہوئے اور بہت دوستوں کو اس میں جمع کر کے فرمایا کہ میں نے ہائی سکول اس لئے قائم کیا تھا کہ لوگ یہاں سے علم حاصل کر کے باہر جا کے تبلیغ کریں گے۔مگر افسوس کہ لوگ علم حاصل کرنے کے بعد اپنے کاروبار میں لگ جاتے ہیں اور میری غرض پوری نہیں ہوتی۔کوئی ہے جو خدا کے لئے مجھے اپنا لڑ کا محض دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے دے دے۔اُس وقت مولوی عبید اللہ مرحوم میرا بیٹا چھوٹی عمر کا میرے پاس موجود تھا۔میں نے وہ حضرت صاحب کے سپرد کر دیا۔حضرت صاحب نے اُس کا ہاتھ اپنے دست مبارک میں پکڑ لیا اور میاں فضل دین صاحب سیالکوٹی جو اس وقت مدرسہ احمدیہ میں مددگار کارکن تھے اُس کے سپر د کر کے فرمایا کہ اس بچے کو مفتی محمد صادق صاحب کے سپر د کر آؤ۔ان دنوں مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر مفتی صاحب تھے۔الغرض وہ مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو کر عالم فاضل بن گیا اور خلیفہ ثانی نے اپنے عہد خلافت میں اُس کو ماریشس میں مبلغ بنا کر بھیج دیا جو پونے سات سال تبلیغ کا کام کرتا رہا۔آخر کسی حکمت کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے اُس کو وفات دے دی۔اُس کے بعد اُس کی بیوی اور ایک لڑکی