خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 165

خطبات مسرور جلد دہم 165 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء کرتا تھا۔اُس کے ساتھ بھی بحث مباحثہ ہوتا رہا۔میرے والدین نے مجھے جواب دے دیا ( یعنی گھر سے نکال دیا )۔والدہ زیادہ سختی کیا کرتی تھیں کیونکہ (مولوی) بو پڑی کا بڑا اثر تھا۔والدین نے کہا ہم عاق کر دیں گے۔کئی کئی ماہ مجھے گھر سے باہر رہنا پڑا۔میرے والد صاحب میری والدہ کو کہا کرتے تھے کہ پہلے یہ دین سے بے پرواہ تھا۔سویا رہتا تھا۔اب نماز پڑھتا ہے۔تہجد پڑھتا ہے۔اسے میں کس بات پر عاق کروں۔(ایک طرف مخالفت تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ، دھمکی تھی کہ عاق کریں گے لیکن ساتھ ہی یہ بھی اثر تھا کہ جب سے احمدی ہوا ہے اس کی کایا پلٹ گئی ہے )۔وہ کہتے ہیں لیکن پھر بھی دنیاوی باتوں کو مدنظر رکھ کر مجھے کہا کرتے تھے کہ مرزائیت چھوڑ دو۔میں یہی کہا کرتا کہ مجھے سمجھا دو۔چنانچہ اس اثناء میں کئی دفعہ مولوی محمد حسین صاحب سے تبادلہ خیالات ہوا۔مولوی محمد حسین صاحب ہمارے مقروض تھے۔والد صاحب تقاضا کے لئے مجھے بھیجا کرتے تھے۔اتفاق سے ایک دفعہ مولوی صاحب نے ایک اشتہار شائع کروایا جس میں خونی مہدی کا انکار تھا اور لکھا تھا کہ وضعی حدیثیں ہیں۔یعنی خود بنائی ہوئی حدیثیں ہیں۔ان کی کوئی صحت نہیں ہے۔حضرت صاحب کو بھی یہ اشتہار پہنچ گیا۔یہ اشتہار دیکھ کر حضرت صاحب نے ایک استفتاء تیار کیا اور ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب گوڑ گاؤں والے کو مولوی کے پاس بھیجا۔وہ علماء کے پاس فتویٰ لینے کے لئے گئے۔بعض علماء نے فتوے دیئے ، بعض نے انکار کیا۔ڈاکٹر صاحب حضرت صاحب کو سنایا کرتے تھے۔( جب مولوی محمد حسین کا یہ اشتہار پہنچا تو اس پر دوسروں سے، غیروں سے فتوے لینے کے لئے بھیجا کہ تم کیا کہتے ہو۔کچھ نے تو اس کے خلاف فتویٰ دے دیا، کچھ نے اپنا پلو بچایا )۔بہر حال کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب جن کو مولویوں کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھیجا تھا وہ حضرت صاحب کو سنایا کرتے تھے کہ میں بعض اوقات انگور یا دیگر پھل مولویوں کے پاس پیش کر دیتا تھا اور وہ حسب منشاء فتویٰ لگا دیا کرتے تھے۔جا کے مولوی صاحب کو تحفہ دیا، کچھ پھل پیش کیا تو جیسا فتویٰ چاہو ان سے لے لو۔آج بھی ویسے یہ حال ہے لیکن آجکل رئیس (Rates) زیادہ high ہو گئے ہیں۔کہتے ہیں حالانکہ پہلے انکار کر چکے ہوتے تھے پھر بھی کچھ نہ کچھ لے کے فتویٰ دے دیتے تھے۔حضرت صاحب یہ باتیں سن کے شملہ منہ کے آگے رکھ کر ( پگڑی کا کپڑا منہ کے آگے رکھ کے ) مسکرایا کرتے تھے۔کہتے ہیں مجھے اس رسالے کا علم تھا جو مولوی محمد حسین صاحب نے شائع کیا تھا کہ اس میں مولوی صاحب نے یہ فتویٰ دیا ہے۔چنانچہ جب مولوی محمد حسین صاحب کے ساتھ تبادلہ خیالات ہوتا تھا تو میں یہ ذکر کرتا تھا۔ایک دن میں نے اُن سے کہا کہ آپ کا عقیدہ مہدی کے متعلق تو یہ ہے جو آپ نے شائع کیا ہے۔خونی مہدی نہیں