خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 114
خطبات مسر در جلد دہم 114 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2012 ء گھر ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہی حکم فرمایا ہے کہ اگر میرے گھر میں عبادت کے لئے آنا ہے تو پھر میری اور صرف میری عبادت کرو اور جو میرے احکامات ہیں اُن پر عمل کرو۔اس سے پہلی آیات میں بھی یہی مضمون چل رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات ہی واحد و یگانہ ذات ہے اور اس سے دور جانے والے اپنے کئے کی سزا بھگت لیں گے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تو یہ بات اور بھی زیادہ روشن اور واضح ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ دنیا میں اپنی وحدانیت کو اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قائم فرمائے گا اور مساجد اس مقصد کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔اور اب دنیا میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور سچائی صرف اور صرف مساجد کے ذریعہ ہی پھیلے گی۔پس وہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ہم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے آنے والے آپ کے غلام صادق کی جماعت میں بھی شامل ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ہمارا تو اب یہ اور صرف یہی کام ہے اور یہ مقصد ہونا چاہئے کہ جہاں خالص ہو کر ایک خدا کی عبادت کے لئے مسجدوں میں آئیں تا کہ ہماری عبادتوں کے معیار بڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق قائم ہو ، وہاں اس سچائی کے نور کو دنیا میں پھیلانے کا بھی باعث بنیں۔پس جب سچائی کے نور کو دنیا میں پھیلانا ہے تو ہمیں صرف ظاہری عبادت کا دعوی کافی نہیں ہوگا بلکہ اس نور سے اپنے آپ کو منور بھی کرنا ہوگا۔میں نے جو دوسری آیت سورۃ اعراف کی تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے پہلے انصاف کا حکم دیا۔فرما یا قُل اَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ۔تو کہہ دے کہ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے۔یہ حکم جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا وہاں ہر اُس حقیقی مومن کو بھی ہے جو آپ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتا ہے۔پس یہاں سب سے پہلے اس اعلان کا حکم ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کو انصاف قائم کرنے، حقوق قائم کرنے ، ہر قسم کے امتیازی سلوکوں سے بالا تر ہونے اور تقویٰ پر چلنے کا حکم ہے۔اور جن لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے وہی اللہ تعالیٰ کی طرف تمام تر توجہ پھیرتے ہوئے اُس کی عبادت کا بھی حق ادا کرتے ہیں۔پس دلوں کے پاک لوگ ہی عبادت کا بھی حق ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔جن کی طبیعت میں نیکی ، پاکیزگی اور انصاف نہیں وہ نہ تو حقوق العباد ادا کرتے ہیں اور نہ حقوق اللہ۔ایک معاملے میں اگر نیکی اور انصاف کرتے ہیں تو دوسرے معاملے میں عدل و انصاف ایسے لوگوں میں نظر نہیں آتا۔پس تقویٰ ہے جو انصاف قائم کرواتا ہے اور تقویٰ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف تمام تر توجہ پھیر نے