خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 115
خطبات مسرور جلد دہم 115 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2012ء کے لئے مائل کرتا ہے اور تقویٰ ہی ہے جو عبادت کا حق ادا کرواتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نماز کے وقت جب مسجدوں کا رُخ کرو تو اگر کسی بشری تقاضے کے تحت دنیا داری یا ذاتی مفادات نے تمہاری توجہ ادھر اُدھر کر بھی دی ہے تو نماز کے بلاوے کے ساتھ ہی تمہارے خیالات اللہ تعالیٰ کے احکامات کی طرف منتقل ہو کر تمہیں اللہ کا حقیقی عبد بنانے والے ہونے چاہیں۔ورنہ یہ عبادتیں بے فائدہ ہیں یا مسجد میں آنا بے فائدہ ہے۔پس جب دین خالص کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کو پکارنے کا حکم ہے تو عبادتوں کے معیار کے حصول کے لئے جو الہی احکامات ہیں اُن احکام کی پابندی کی بھی شرط لگا دی۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر بھی عمل کرنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت اور تقویٰ ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی کرواتا ہے اور یہ سب چیزیں ہی ہیں جو پھر خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے والی بھی ایک انسان کو بناتی ہیں۔اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ۔کہ جس طرح اُس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اس طرح تم مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹو گے۔انسان کو یادرکھنا چاہئے کہ دنیا میں کئے گئے اعمال اگلے جہان کی جزا سزا کا باعث بنتے ہیں۔پس اللہ فرماتا ہے تمہاری جسمانی پیدائش کے مختلف مرحلے اور پھر یہ زندگی گزارنا تمہیں اس بات کی طرف توجہ دلانے والا ہونا چاہئے کہ مرنے کے بعد کی زندگی کے بھی مختلف دور ہیں جن میں سے روح نے گزرنا ہے۔پس اس اخروی زندگی اور روح کی بہتر نشوونما کے لئے صحیح نشوونما کے لئے اس دنیا کے اپنے اعمال کے ذریعے فکر کرو۔اور یہ فکر اُسی وقت حقیقی رنگ میں ہوسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کیا جائے اور اپنی عبادتوں کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بجالایا جائے۔اُس کے احکامات پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔عبادت کے وقت یہ ذہن میں ہو کہ خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں۔اور یہ خالص عبادت ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پھیرتے ہوئے مجھے اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بنائے گی اور اُخروی زندگی میں بھی۔خالص عبادت کس طرح ہونی چاہئے؟ اس بات کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایک سوال کرنے والے کے اس سوال پر کہ نماز میں کھڑے ہو کر اللہ جل شانہ کا کس طرح کا نقشہ پیش نظر ہونا چاہیے ؟ حضرت مسیح موعود نے اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ: موٹی بات ہے قرآن شریف میں لکھا ہے وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ (الاعراف : 30) اخلاص سے خدا تعالیٰ کو یاد کرنا چاہئے اور اُس کے احسانوں کا بہت مطالعہ کرنا چاہئے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم۔صفحہ 335 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ)