خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 104
خطبات مسرور جلد دہم 104 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2012ء کا دور اس عظیم پیشگوئی کے پورا ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آپ کی تحریرات ، آپ کی تقریریں اُس درد سے بھری ہوئی ہیں جو اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو دنیا میں قائم کرنے کیلئے آپ کے دل میں تھا۔آپ کا علم و عرفان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو علومِ ظاہری و باطنی سے پر فرمایا۔غرض جو باون یا بعض لحاظ سے اٹھاون خصوصیات پیش کی جاتی ہیں، ان کا جائزہ لیا جائے تو پیشگوئی میں جتنی بھی خصوصیات کا ذکر ہے، وہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہمیں نظر آتی ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اس حوالے سے بھی میں بعض باتیں کروں گا تو آپ کے کچھ حوالے پیش کرتا ہوں جو آپ کی تقریر اور تحریر کے ہیں جن سے آپ کا عظیم عزم بھی جھلکتا ہے جو ہمیں آپ کے اولوالعزم ہونے کا بھی پتہ دیتا ہے۔ا ایک تقریر میں آپ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ کے مرسل جب آتے ہیں اُس وقت ہر شخص جو اُن کی جماعت میں داخل ہوتا ہے یہ سمجھتا ہے کہ دین کا کام میرے سوا اور کسی نے نہیں کرنا۔جب وہ یہ سمجھ لے تو وہ اس کی انجام دہی کے لئے اپنی ساری قو تیں صرف کر دیتا ہے۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہ مجنوں بن جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے تو میں نے اس قسم کی آواز میں سنیں کہ آپ کی وفات بے وقت ہوئی ہے۔ایسا کہنے والے یہ تو نہیں کہتے تھے کہ نعوذ باللہ آپ جھوٹے ہیں۔“ ( کیونکہ یہ مانتے بھی تھے، احمد یوں میں سے ہی یہ آواز میں اُٹھ رہی تھیں مگر یہ کہتے تھے کہ وفات ایسے وقت میں ہوئی ہے جبکہ آپ نے خدا تعالیٰ کا پیغام اچھی طرح نہیں پہنچایا اور پھر آپ کی بعض پیشگوئیاں بھی پوری نہیں ہو ئیں۔فرماتے ہیں کہ ”میری عمر اس وقت انیس سال کی تھی۔میں نے جب اس قسم کے فقرات سنے تو میں آپ کی لاش کے سرہانے جا کر کھڑا ہو گیا اور میں نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے دعا کی کہ اے خدا! یہ تیرا محبوب تھا جب تک یہ زندہ رہا اُس نے تیرے دین کے قیام کے لئے بے انتہا قربانیاں کیں۔اب جبکہ اُس کو تو نے اپنے پاس بلا لیا ہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس کی وفات بے وقت ہوئی ہے۔ممکن ہے ایسا کہنے والوں یا ان کے باقی ساتھیوں کے لئے اس قسم کی باتیں ٹھوکر کا موجب ہوں اور جماعت کا شیرازہ بکھر جائے۔اس لئے اے خدا! میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت بھی تیرے دین سے پھر جائے تو میں اس کے لئے اپنی جان لڑا دوں گا۔اُس وقت میں نے سمجھ لیا تھا کہ یہ کام میں نے ہی کرنا ہے اور یہی ایک چیز تھی جس