خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 105
خطبات مسرور جلد دہم 105 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2012 ء نے انیس سال کی عمر میں ہی میرے دل کے اندر ایک ایسی آگ بھر دی کہ میں نے اپنی ساری زندگی دین کی خدمت میں لگادی اور باقی تمام مقاصد کو چھوڑ کر صرف یہی ایک مقصد اپنے سامنے رکھ لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس کام کے لئے تشریف لائے تھے وہ اب میں نے ہی کرنا ہے۔وہ عزم جو اُس وقت میرے دل کے اندر پیدا ہوا تھا، آج تک میں اُس کو نت نئی چاشنی کے ساتھ اپنے اندر پاتا ہوں اور وہ عہد جو اُس وقت میں نے آپ کی لاش کے سرہانے کھڑا ہو کر کیا تھا وہ خضرِ راہ بن کر مجھے ساتھ لئے جاتا ہے۔میرا وہی عہد تھا جس نے آج تک مجھے اس مضبوطی کے ساتھ اس ارادے پر قائم رکھا کہ مخالفت کے سینکڑوں طوفان میرے خلاف اُٹھے مگر وہ اس چٹان کے ساتھ ٹکرا کر اپنا ہی سر پھوڑ گئے جس پر خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا تھا۔اور مخالفین کی ہر کوشش، ہر منصوبہ اور ہر شرارت جو انہوں نے میرے خلاف کی وہ خود انہی کے آگے آتی گئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل کے ساتھ مجھے ہر موقع پر کامیابیوں کا منہ دکھایا۔یہاں تک کہ وہی لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت یہ کہتے تھے کہ آپ کی وفات بے وقت ہوئی ہے، آپ کے مشن کی کامیابیوں کو دیکھ کر انگشت بدنداں نظر آتے ہیں۔“ قومی ترقی کے دو اہم اصول انوار العلوم جلد 19 صفحہ 75،74) آپ کی مجلس کی یہ تقریر ہے جو میں نے بیان کی ہے، اس کے بعد پھر اس کا تسلسل چل رہا ہے۔اس کے بعد آپ نے جماعت کو بھی توجہ دلائی کہ : جماعت کے ہر شخص کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس نے اپنے اندر یہ روح پیدا کرنی ہے کہ دین کا کام اُسی نے کرنا ہے۔ہر کوئی سمجھے کہ اب دین کے کام کی ذمہ داری، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو آگے لے جانے کی ذمہ داری میری ہے۔اس لئے ایک عہد کریں اور جو یہ عہد کرے گا کہ ہر حالت میں میں نے دین کی خدمت کو مقدم رکھنا ہے۔فرمایا کہ پھر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر جس مقصد کو حاصل کرنا تھا ، وہ آپ کرنے والے بنیں گے، کیونکہ وہ مقصد یہی ہے کہ آپ کے مشن کو آگے لے جانا۔اور پھر مزید فرمایا کہ اگر ہم میں یہ روح پیدا ہو جائے گی تو کوئی مشکل ہمیں مشکل نظر نہیں آئے گی۔رستے کی جو ساری مشکلات ہیں ہمیں معمولی نظر آئیں گی۔“ (ماخوذ از قومی ترقی کے دو اہم اصول انوار العلوم جلد 19 صفحہ 75) پھر اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے دل کا درد آپ نے ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں کہ :