خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 103

خطبات مسرور جلد دہم 103 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2012ء مولویوں اور ان کے دوستوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں نے اس کے مرنے پر بہت خوشی ظاہر کی اور بار باران کو کہا گیا کہ 20 فروری 1886ء میں یہ بھی ایک پیشگوئی ہے کہ بعض لڑکے فوت بھی ہوں گے۔پس ضرور تھا کہ کوئی لڑکا خوردسالی میں فوت ہو جاتا۔تب بھی وہ لوگ اعتراض سے باز نہ آئے۔تب خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے لڑکے کی مجھے بشارت دی۔چنانچہ میرے سبز اشتہار کے ساتویں صفحہ میں اس دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ بشارت ہے۔دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے وہ اگر چہ اب تک جو یکم ستمبر 1888ء ہے پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہو گا۔زمین آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔یہ ہے عبارت اشتہا رسبز کے صفحہ سات کی“ اُس کا حوالہ دے رہے ہیں حقیقۃ الوحی میں ) ” جس کے مطابق جنوری 1889ء میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام محمود رکھا گیا اور اب تک بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہے اور سترھویں سال میں ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 374،373) پھر تریاق القلوب جو روحانی خزائن کی جلد 15 ہے اُس کے صفحہ 214 پر آپ فرماتے ہیں: میرا پہلالڑ کا جو زندہ موجود ہے جس کا نام محمود ہے ابھی وہ پیدا نہیں ہوا تھا جو مجھے کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی اور میں نے مسجد کی دیوار پر اس کا نام لکھا ہوا یہ پایا کہ محمود۔تب میں نے اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے لئے سبز رنگ کے ورقوں پر ایک اشتہار چھاپا۔جس کی تاریخ اشاعت یکم دسمبر 1888ء ہے اور یہ اشتہار مورخہ یکم دسمبر 1888 ء ہزاروں آدمیوں میں شائع کیا گیا اور اب تک اس میں سے بہت سے اشتہارات میرے پاس موجود ہیں۔( تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 214) پھر ضمیمہ انجام آتھم میں روحانی خزائن کی جلد 11 کے صفحہ 299 میں آپ فرماتے ہیں: 66 پھر ایک اور نشان یہ ہے جو یہ تین لڑکے جو موجود ہیں ہر ایک کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔چنانچہ محمود جو بڑا لڑکا ہے اس کی پیدائش کی نسبت اس سبز اشتہار میں صریح پیشگوئی مع محمود کے نام کے موجود ہے جو پہلے کی وفات کے بارے میں شائع کیا گیا تھا۔جو رسالہ کی طرح کئی ورق کا اشتہار سبز رنگ کے ورقوں پر ہے۔“ ضمیمه رساله انجام آتھم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 299) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بیٹے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کو موعود بیٹے کا مصداق سمجھتے تھے جس نے دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔آج بھی بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں اس لئے میں نے یہ وضاحت کی ہے۔حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح الموعود کی باون سالہ خلافت