خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 57

57 9 ایمان کی حفاظت کا واحد ذریعہ (فرموده ۱۳ مارچ ۱۹۲۵ء) نوٹ : حضور نے یہ خطبہ جمعہ لاہور میں ارشاد فرمایا۔جو مکرم ڈاکٹر محمد رمضان صاحب نے اپنی یا داشت کی بناء پر اپنے الفاظ میں تحریر کیا ہے۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے اس مضمون پر کہ فطرت ترقی کے میدان میں کس طرح کام کرتی ہے۔فرمایا۔دیکھو دنیا میں حقیر سے حقیر چیز بھی غیر مفید نہیں۔اگر غور سے دیکھا جائے۔تو اس میں بھی بہت سے فوائد پوشیدہ ہوتے ہیں جو کہ دنیا کی ترقی کے لئے بہت حد تک محمد ہیں۔مثال کے طور پر سب سے حقیر چیز انسان اور حیوان کا فضلہ سمجھا جاتا ہے۔لیکن غلہ وغیرہ کی پیدوار کے لئے کس قدر مفید ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو ہمیں اعلیٰ سے اعلیٰ اناج بھی نہ مل سکتا۔اسی طرح اور چیزوں کو لے لو۔تو معلوم ہو گا کہ ہر ایک چیز کی کچھ نہ کچھ غرض ہے۔اگر بعض اوقات ہم اپنے محدود علم کی وجہ سے اس غرض کو دیکھ یا سمجھ نہیں سکتے تو اس سے یہ ہر گز لازم نہیں آتا کہ اس چیز کی کوئی غرض نہیں۔انتڑیوں کے نیچے ایک غدود ہوتی ہے جس کو انگریزی میں Appendia کہتے ہیں۔اور اس کی بیماری کو Appendicitis جو بہت مہلک بیماری ہوتی ہے۔بہت عرصہ سے ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اس کا انسانی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے۔اس لئے تندرست آدمیوں کے بدن سے اسے نکال دینا بہتر ہے۔لیکن اب پتہ لگا ہے کہ یہ غدود بھی زندگی کے قیام کے لئے بدن کا ایک جزو لاینفک ہے۔اس بارہ میں فرانس میں تجربے کئے گئے۔کچھ بندر لئے گئے ہیں۔ان میں سے بعض کی یہ غدود نکال دی گئی اور دوسروں کی اسی طرح رہنے دی۔کچھ دنوں کے بعد اول الذکر بندروں کی صحت میں نمایاں فرق آگیا۔یہاں تک کہ وہ دبلے ہوتے ہوتے مرگئے۔پس جب دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بھی کچھ نہ کچھ غرض ہے۔تو انسان کی جس کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے۔کتنی بڑی غرض ہو گی۔