خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 58

58 اس کے بعد حضور نے انسانی غرض کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔جب انسان اس کو حاصل کر لیتا ہے۔تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ اس انعام کو اپنے تک ہی محدود رکھے۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کا ایمان ہر وقت خطرہ میں ہے۔کیونکہ دنیا میں ہر ایک چیز ترقی کرتی ہے۔اس حالت میں اس کے مخالف عناصر ترقی کرتے کرتے اس پر غالب آجائیں گے اور اس کا ایمان سلب ہو جائے گا۔دیکھو جہاں گل ہوتا ہے وہاں اس کے ساتھ ہی کانٹے بھی ہوتے ہیں۔اگر مالی اس گل کی کانٹوں سے حفاظت نہیں کرے گا۔تو وہ آخر کار کانٹوں میں دب جائے گا اور اپنی ہستی کھو دے گا۔اسی طرح ایک شخص۔مکان بنواتا ہے اور مکان کی آگ سے حفاظت کے لئے ہر طرح کے سامان مہیا کرتا ہے۔لیکن کیا وہ اپنے مکان کو آگ سے بالکل محفوظ سمجھ سکتا ہے۔ہرگز نہیں کیونکہ جب تک اس کے ہمسایوں کے مکان محفوظ نہیں۔اس کا بھی نہیں۔پس ایمان کی حفاظت کا ایک ہی ذریعہ ہے۔اور وہ تبلیغ تبلیغ کی دو قسمیں ہیں۔ایک انفرادی اور دوسری اجتماعی۔پھر اس کی توضیح فرمائی۔اب وہ زمانہ نہیں۔کم از کم شہروں میں تو وہ نہیں کہہ ہم لوگوں کو یہ کہہ کر کہ چونکہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکے ہیں اس لئے مرزا صاحب مسیح موعود ہیں۔کامیاب ہو سکیں۔میرے نزدیک مخالفین کا یہ اعتراض کہ مسیح موعود کے آنے کی غرض کیا تھی۔ایسا گر ہے جس کا جواب پیش کر کے ہم دنیا پر فتح پا سکتے ہیں۔حضور نے اس غرض اور حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا۔محض یہ کہہ دینا کہ حضرت صاحب نے اتنے مباحثے کئے اور اتنی کتابیں لکھیں۔آپ کو سچا ثابت نہیں کر سکتا۔نبی دنیا میں اس وقت نہیں آتے جب زبانی ایمان کی قلت ہو۔بلکہ اس وقت آتے ہیں جب دنیا میں بے دینی پھیل گئی ہو۔یہی بڑی وجہ تھی حضرت مسیح موعود کے مبعوث ہونے کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی نصرت کے لئے اتنے خارق عادت تائیدی نشان دکھائے اور وہ وہ علوم کے انکشافات کئے جو کہ آپ کے دعوئی کے زبردست ثبوت ہیں۔پس اگر تم ان علوم کو دنیا کی ہدایت کے لئے لیکر کھڑے ہو جاؤ تو دیکھو گے کہ کامیابی اور کامرانی تمہارے پاؤں چومتی ہے۔آخر میں حضور نے جماعت احمدیہ لاہور کے لئے چند عملی نصائح بیان فرمائیں۔اور دعائیہ کلمات پر تقریر کو ختم کیا۔(الفضل ۱۹ مئی ۱۹۲۵ء)