خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 385

385۔جانتا کہ آگے کون سا مقام ہے اور جب ایک نبی بھی نہیں جانتا کہ اس کے بعد کون سا مقام آنے والا ہے۔جب ایک رہنما بھی نہیں جانتا کہ اس کے بعد میں نے کس مقام پر جانا ہے۔جب ایک مجدد بھی نہیں جانتا کہ اب دوسرا کون سا مقام ہے۔تو وہ کسی دوسرے کو کس طرح کسی اگلے مقام کا پتہ بتا سکتے ہیں۔صرف خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو ان مقامات کو جانتی ہے جو انسان کے آگے آنے والے ہوتے ہیں اور وہی ان کے لئے ہدایت بھی کر سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ باوجود انبیاء ہونے کے باوجود مجددین کے سلسلے اور صالحین کی جماعت کے موجود ہو نے کے ہر مومن اهلنا الصراط المستقیم کہتا ہے بلکہ ہر مجدد بلکہ ہر نبی بھی باوجود نبی ہونے کے کہتا ہے۔اهدنا الصراط المستقیم - کیونکہ نبی بھی نہیں جانتا کہ میرے آگے کیا مقام ہے اور جب ایک نبی بھی اگلے مقام کو نہیں جانتا۔تو دوسرے بالکل ہی اس کو نہیں جان سکتے اور یہی وجہ ہے کہ عام لوگوں کے سوا صلحاء بلکہ مجددین بلکہ انبیاء کو بھی ہر قدم پر اھدنا الصراط المستقیم کہنا پڑتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رہنمائی خدا کی طرف سے آتی ہے اور ایک شخص اس کی رہنمائی سے ہی ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچتا ہے۔اس لئے ہر شخص کو خواہ وہ کتنے ہی بڑے مقام پر کیوں نہ ہو۔یہی کہنا پڑتا ہے کہ اھدنا الصراط المستقیم - الہی تو ہی رہنمائی فرما اور جو مقام ہمارے آگے ہے۔اس تک تو آپ ہی پہنچا۔یہ تمام ایسی چیزیں کہ جن کے متعلق بڑے سے بڑے انسان کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ کیا ہے اور کیسی ہیں۔مہم۔غیر معین اور غیر محدود شہ کی طرح ہیں۔اور آئندہ ترقی کی بھی کوئی حد نہیں۔انسان نہیں جانتا کہ اس قسم کی روحانی ترقیات کی آخری حد کون ہی ہے۔سوائے اس کے کہ جو مقامات اعلیٰ سے اعلیٰ ہیں ان میں سے سب سے بڑا مقام خدا تعالیٰ کے قرب کا ہے اور کوئی بات نہیں جس سے وہ اگلے مقام کا اندازہ لگا سکے۔ایسے نازک موقع پر سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے آگے جھکا جائے اور اسی سے پوچھا جائے کہ اب آگے کہاں جائیں۔۔حق تو یہ ہے کہ اگر انسان کے دوسرے کام نہ ہوتے اور دوسرے واجبات اور فرائض ادا کرنا اس کے ذمے نہ ہوتے۔تو وہ ہر وقت یہی کہتا رہتا۔اهدنا الصراط المستقیم کیونکہ انسان میں ہر لحظہ تغیر پیدا ہوتا ہے اور اسے نہیں معلوم کہ اب اس تغیر کے بعد کیا کرنا ہے۔اس کام میں شریعت بھی مدد نہیں کر سکتی۔شریعت کی مثال طب کی طرح ہے مگر طب کے موجود ہونے سے بیماری کا علاج تو نہیں آجاتا۔دوائیاں خدا نے پیدا کی ہیں۔لیکن پھر بھی ایک شخص ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔پھر