خطبات محمود (جلد 9) — Page 384
384 43 ھدنا الصراط المستقیم کی دعا (فرموده ۱۱ دسمبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں آج اس مضمون کی طرف اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔جو سورہ فاتحہ کے کا مضمون ہے۔اہم مضامین میں سے ہے۔اور وہ اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم۔ہدایت ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر دنیا میں کوئی کامیاب نہیں ہو سکا۔کیونکہ انسان کے سامنے ہر وقت جو سفر در پیش ہے۔وہ ایک ایسے مقام کا ہے جس کی اسے اطلاع نہیں۔پس ایک ایسے شخص کی مثال جو اپنے اس مقام کو نہیں جانتا جس کے لئے وہ سفر کر رہا ہے۔بالکل اس شخص جیسی ہے۔جسے یہ تو معلوم ہے کہ مجھے میدان جنگ میں بھیجا جا رہا ہے۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ کس جگہ کھڑا کیا جائے گا۔وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا کہ مجھے کس جگہ کھڑا کیا جائے گا۔کیونکہ دوسرے بھی تو اسی طرح کے ہوتے ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ خود انہیں کہاں کھڑا کیا جائے گا اس لئے اگر وہ ان سے اس کے متعلق پوچھے بھی تو وہ کچھ نہیں بتا سکتے۔ہاں وہی اس کو بتا سکتا ہے۔جس کے سپرد کام کا مقرر کرتا ہے۔یہی حال روحانی امور کا ہے۔روحانی ترقیات کا مقام بالکل پوشیدہ ہوتا ہے۔روحانی ترقیات کی عرض خدا تعالیٰ سے قرب اور اس سے وصال ہے اور چونکہ خدا کی ذات غیر محدود ہے اور اس کے غیر محدود ہونے کے سبب ہم ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ فلاں کا فلاں مقام ہے اور فلاں کا فلاں۔حتی کہ مقامات کے لحاظ سے صوفیاء نے لکھا ہے کہ مرید کو پیر کے مقام کا پتہ نہیں ہوتا اور پیر کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ مرید کا کیا مقام ہے اور یہی نہیں بلکہ خود اس سے آگے بھی کچھ پتہ نہیں ہوتا۔حتی کہ ایک پیر کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ آگے کون سا مقام آنے والا ہے۔پس جب ایک پیر اپنے متعلق بھی نہیں